پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک مسیحی جوڑے کو توہینِ رسالت کے الزام میں سزائے موت سنا دی گئی ہے۔
گوجرہ سے تعلق رکھنے والے شفقت امینوئل اور شگفتہ کوثر پر الزام تھا کہ انھوں نے اپنے علاقے کی مسجد کے امام کو موبائل پر پیغمبرِ اسلام کی توہین پر مبنی ایک پیغام بھیجا تھا۔
وکیل صفائی صدف صدیق نے بی بی سی اردو کے احمد رضا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی عدالت کے جج میاں عامر حبیب نے جمعے کو ٹوبہ ٹیک سنگھ جیل میں سماعت کے دوران ان دونوں کو موت کی سزا دینے کا حکم دیا۔
وکیلِ صفائی نے بتایا کہ دونوں ملزمان گوجرہ کے بشپ ہاؤس کے ملازمین ہیں اور ان پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
امام مسجد مولوی محمد حسین نے گذشتہ برس 21 جولائی کو اس جوڑے کے خلاف پولیس کو درخواست دی تھی جس میں ان پر توہینِ رسالت کا الزام لگایا گیا تھا۔

10168071_671482559578465_3156364636381270462_n
وکیلِ صفائی نے بتایا کہ اگرچہ شفقت امینوئل نے اپنے اقبالی بیان میں توہین آمیز پیغامات بھیجنے کا اعتراف کیا ہے لیکن اس کی اہلیہ شگفتہ بےگناہ تھیں اور انھیں تفتیش میں صرف اس لیے شامل کیا گیا تھا کہ جس فون سے پیغام بھیجا گیا اس کی سِم شگفتہ کے نام پر تھی۔
صدف صدیق کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے اور شگفتہ بی بی کو انصاف دلوائیں گی کیونکہ وہ بےگناہ ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شفقت امینوئل ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے معذور ہیں اور ان کا دماغی معائنہ بھی ہونا چاہیے۔وکیلِ صفائی نے کہا کہ ایڈیشنل سیشن جج نے گذشتہ ہفتے شگفتہ کی ضمانت رد کرتے ہوئے مقدمے کی جلد سماعت کا فیصلہ کیا تھا اور پھر صرف ایک ہفتے بعد سزائے موت سنا دی گئی۔
صدف صدیق کے مطابق ’ہمیں اچھی طرح سے جرح کا موقع بھی نہیں ملا اور ہم نے تو مقدمے کی منتقلی کی درخواست بھی دی تھی کیونکہ جج پر بھی اعتراض تھا کہ وہ غیرجانبدار نہیں رہے تھے اور وکیلِ استغاثہ خود اس مقدمے کے گواہ بھی تھے۔‘
خیال رہے کہ گوجرہ مذہبی تنازعات کی وجہ سے ایک حساس علاقہ ہے اور سنہ 2009 میں یہاں ایک مشتعل ہجوم نے قرآن کی بےحرمتی کی افواہوں پر ایک عیسائی آبادی پر حملہ کر کے سات افراد کو ہلاک اور 70 سے زیادہ مکانات نذرِ آتش کر دیے تھے۔
یہ پاکستان میں رواں برس کم از کم تیسرا ایسا معاملہ ہے جس میں توہینِ رسالت کے ملزم کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔
اس سے پہلے جنوری میں راولپنڈی میں ایک 70 سالہ برطانوی شہری کو اور پھر گذشتہ ہفتے لاہور میں جوزف کالونی کے رہائشی مسیحی نوجوان ساون مسیح کو سزائے موت دینے کے احکامات سامنے آئے ہیں۔ اکستان میں توہینِ مذہب یا توہینِ رسالت کا قانون عرفِ عام میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 295 سی کو کہا جاتا ہے جسے 1986 میں نافذ کیا گیا تھا۔
حقوقِ انسانی کی تنظیمیں اس قانون کے استعمال پر بارہا خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس میں تبدیلی یا اس کے خاتمے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس قانون کو مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے ذاتی پرخاش پر انھیں نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

Advertisements