27 جون کو برسلز میں یوروپیئن پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرے کے حوالے سے منقد کی جانے والی میٹینگ نہایت کامیاب رہی۔ ہمارا یہ مظاہرہ اس حوالے سے دوسرے تمام مظاہروں سے مختلف ہے کہ اس میں شامل ٹیم کے تمام ممبرز برابر ہیں۔ دوسری بات کہ اس میں تمام مکتبہ فکر کے لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی، اور مزہبی تنظیموں سے تلعق رکھتے ہیں شامل ہیں اور سب کو برابری کی بنیاد پر نمایندگی حاصل ہے۔ یورپ اور برطانیہ کے پاکستانی مسیحوں کو اس مظاہرے میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔
میٹینگ میں اپنی پاکستانی مسیحی کمیونیٹی کے ساتھ تجدید عہد وفا کا علان کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ اپنے تمام تر نظریاتی، فکری اور تنظیمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی کمیونیٹی کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہونگے اور ہر اُس آہنی دیوار کو گرا دینگے جو کہ ہمارے مسیحی بہن بھایئوں کے لئے خطرے کا باعث ہو۔
فرانس سے جناب شاہزیب بھٹی اور اٹلی سے جناب سرور بھٹی کے مشورے اور تمام میمبرز کی متفکہ رائے سے سینٹرل کمیٹی کے لئے بیلجیئم اور ہالنیڈ سے بل ترتیب جناب لطیف بھٹی صاحب اور واٹسن گل کو چنا گیا کہ وہ تمام انتظامی امور کو سھمبالنے کے لئے اپنے ممالک سے ٹیمیں تشکیل دینگے۔ بیلجئم سے جناب شاہد پرویز صاحب سکائپ سسٹم کو کنٹرول کر رہے تھے۔
میٹینگ کا آغاز ہالینڈ کے پاسٹر ندیم دین کی دعُاسے ہوا۔ بیلجئم سے پاسٹر جان اشرف زاتی مصروفیت کی وجہ سے جلد چلے گئے، یوروپیئن یونین کے ممبر کو پٹیشن پیش کرنے کے حوالے سے ایک وفد کا چناؤ کیا گیا۔ جس میں بیلجئم سے جناب لطیف بھٹی، اٹلی سے جناب سرور بھٹی، سپین سے جناب جمشید صفدر، جرمنی سے جناب طارق جاوید رندھاوا اور ہالینڈ سے واٹسن گل شامل ہیں۔ اور اس وفد کا سائز بڑھنے کی گُنجائش بھی ہے۔ اس کے علاوہ فیصلہ کیا گیا کہ کیسے لوکل اور بین الاقوامی میڈیا کو اس تحریک کے حوالے سے باخبر رکھا جائے۔
بہت سے بھائ میٹینگ میں دیر سے شامل ہوئے، اور چند نے میٹینگ کے بعد فون کر کے اپنے بھرپُور تعاون کا یقین بھی دلایا جن میں خاص طور پر ناروے سے جناب ظفر اقبال صاحب کی فون کال قابل زکر ہے۔ جناب ظفر اقبال نے اپنے بھرپور تعاون ور شرکت کا یقین دلایا اور اس بات پر زور دیا کہ ہمیں مل جُل کر اپنے بہین بھایوں کے لئے آواز اُٹھانی چاہئے۔ اس کے علاوہ پاکستان سے جناب جنید قیصر، جناب جیکسن گل، ہالینڈ سے جناب عابد شکیل، جناب بوبی بوب، جناب سرفراز اعجاز نے بھی ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔
جناب لطیف بھٹی نے بتایا کہ بیلجئم اردو چرچ کے پاسٹر جناب پاسٹرکامران تھامس اور کلیسیا بھی ان کے ساتھ اس عظیم تحریک میں شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اور ان مقاصدء حقوق مسیحی میں مل کر آگے بڑھے گے۔
مضید معلومات کے لیئے آپ ہماری ٹیم کے ممبرز سے رابطہ کر سکتے ہیں

Advertisements