واٹسن گل،

نیدرلینڈز: 2 مئی2014
میں برطانیہ کے ان غیور مسیحوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے وزیراعظم نوازشریف کے دوراءبرطانیہ کے موقع پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔ مگر اسبات پر افسوس کرتا ہوں کہ برطانیہ میں مسیحوں کی تعداد دس ہزار کے لگ بھگ اور اور احتجاج میں محض چند لوگ؟۔ پھر بھی اس احتجاج کے منتظمین خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ کہ انہوں نے یہ عظیم کوشش کی۔
30 اپریل 2014 کو نواز شریف کے برطانیہ میں ایک سرکاری دورے کے موقع پر ایک پاکستانی مسیحی احتجاج کا اہتمام کیا گیا۔ اس احتجاج کے نگران برطانیہ کے پاکستانی مسیحی جناب ایڈگر منی صاحب تھے۔ جو کہ پاکستان کرسچن آلایئنس کے سربراہ بھی ہیں۔ ان کے ساتھ معروف کالم نویس اور انسانی حقوق کے حوالے سے بڑا نام جناب ناصر سید صاحب بھی تھے۔ یہ احتجاج اپنی جگہ ایک اہمیت اور افادیت رکھتا تھا۔ اس کا وقت، جگہ اور موقع بہت اہم تھے۔ جناب نوازشریف کی برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کمرون سے ملاقات اور اس ملاقات میں برطانیہ کی جانب سے پاکستان کو سنہ 2011 سے سنہ 2015 کے عرصے کے لیے ایک ارب 17 کروڑ پاؤنڈ کی امداد دی جانی تھی ۔ پاکستان کو اقتصادیات، تعلیم اور صحت کے میدانوں میں دی جانے والی یہ امداد برطانیہ کی جانب سے دی جانے والی سب سے زیادہ امداد ہے۔ اس بار اسے مشروط کر دیا گیا کہ پاکستان کو دہشتگردی سے چھٹکارا پانا ہو گا۔
میری ناقص رائے کے مطابق اگر پاکستانی برٹش مسیحی بڑی تعداد میں 10 ڈاؤنینگ اسٹریٹ پر احتجاج میں شامل ہوتے اور پانچ ہزار مسیحی نہی بلکہ دوہزار بھی نہی بلکہ ایک ہزار بھی نہی محض پانچ سو مسیحی اکھٹے ہو جاتے تو اس امداد کو مسیحیوں کی جان ؤ مال کے تحفظ سے بھی مشروط کر وا سکتے تھے۔ مگر ہم شاید دُنیا کی سب سے زیادہ بکھری ہوئ کمیونیٹی ہیں کہ جو یہ بات ماننے کے لئے بھی تیار نہی ہوتی کہ ہم بکھرے ہوئے ہیں۔ اپنے اپنے دائروں میں قید، اپنے اپنے تالابوں میں شہنشا۔

Advertisements