سالانہ پانچ ہزار ہندو پاکستان چھوڑ کے ہندوستان ہجرت کر رہے ہیں، ارے ہم مسیحی کہاں جاییں؟۔ واٹسن گل،
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار نے کہا ہے کہ ملک میں اقلیتی مذاہب سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص محفوظ نہیں ہے جبکہ حکومت اقلیتوں کے عبادت گاہوں اور ان کی مذہبی کتابوں کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ اور سندھ سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رکن ڈاکٹر رمیش کمار نے قومی اسمبلی میں ملک میں امن وامان کی صورتحال پر ہونے والی بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی مذہب، کسی اور مذہب کے خلاف نہیں بلکہ ہرمذہب دوسرے مذاہب کا احترام کا درس دیتا ہے۔ لیکن چند دن قبل صوبہ سندھ کےعلاقے شکارپور میں نامعلوم افراد نے ہندوؤں کی ایک مذہبی کتاب کو آگ لگا کر اس کی بے حرمتی کی۔
پاکستان میں مسیحی کمیونیٹی در بدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہے۔ نہ ان کے گھر محفوظ ہیں اور نہ ہی ان کی چادر کا تقدس، انصاف تو نام کے لیئے بھی نہی۔ شانتی نگر سے لیکر گوجرہ سانحہ ہو یا پھر جوزف کالونی سے لیکر تحسیر ٹاؤن یا پھر سلاٹر ہاؤس کراچی کہیں پناہ نہی ہے۔ لیاری کے علاقے اولڈ سلاٹر ہاؤس سے دو سو بیس سے زائد مسیحی خاندان نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوگئے جو اس وقت شہر کے مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ محنت مزدوری کر کے کمیٹیاں ڈال کر کئ دہایؤں بعد جب یہ مسیحی اپنی گھر میں ضرورت کی اشیا جمح کرتے ہیں تو ان کے مسلمان آقا اسلام کے نام پر ان کے گھر منٹوں میں جلا کر ان کو سڑکوں پر بے یار و مددگار چھوڑ دیتے ہیں۔
اس ظلم کے خلاف نہ تو آج تک حکومت نے کوئ ایکشن لیا ہے نہ ہی کوئ اور ادارا ان کی دادرسی کرتا ہے۔ ان کے لیئے تو نہ انڈیا کے دروازے کھلے ہیں نہ ہی افغانستان کے۔ یورپ امریکہ یہ جا نہی سکتے۔ اور اگر خوشقسمتی سے کوئ فرار ہو کر یورپ اور امریکہ پہنچ بھی جاتا ہے تو یہہاں کی نام نہاد مسیحی حکومتیں ان کو قبول نہی کرتیں۔ کُچھ ڈیپورٹ کر کے دوبارہ ظلم کی چکی پیسنے کے لیئے پیش کر دیئے جاتے ہیں اور کچھ ال لیگل ہو جاتے ہیں۔ اور تو اور اپنے مسیحی بہن بھائ بھی اپنی اپنی دکانداریوں میں ان کو بیچنے کے لیئے تیار رہتے ہیں۔ اور اگر چند لوگ مل کر ان کی آواز بلند کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے خلاف جھوٹے پروپیگینڈے کر کے ان کے کام میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اور ہمارے لوگوں کا حال یہ ہے کہ اگر کوئ تحریک میں چلا رہا ہوں تو ٹھیک،،،، ورنہ اگر کوئ اور چلائے تو غلط، جرم، ڈرامہ اور نہ جانے کیا کیا

Advertisements