جیو ٹی وی پر ایک مارنینگ شو چلا جسے شائستہ واحدی ہوسٹ کرتی ہیں۔ یہ شو وینا ملک اور اسد کی شادی کے حوالے سے تھا۔ اس شومیں آل ء محمد کی ایک قوالی پیش کی گئ۔ اس قوالی کے دوران پروگرام کی منظر کشی اسلام کے حوالے سے قابل اعتراض تھی، گستاخانہ بلکہ فرقہ وارانہ تھی۔ عالم اسلام کی انتہائ مقدس شخصیات کے ناموں سے منسوب اس قوالی کے پس منظر میں جوتے تک لہراتے دکھایے گئے۔ جو کہ انتہائ گستاخانہ عمل تھا۔
اے آر وائے ٹی وی جو کہ جیو کا مخالف ٹی وی چینل ہے اس کے پروگرام کھرا سچ میں مبشر لقمان نے جیو کے مزکورہ پروگرام پر زبردست تنقید کی اور اسے گستاخانہ قرار دیا۔ کھرا سچ کے پروگرام میں مزہب اسلام کی دو قد آور شخصیات علامہ عباس کمیلی اور جناب صاحبزادہ حامد رضا بھی موجود تھی۔ اور اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی۔ حامد رضا صاحب نے اس قسم کی تشبیہات کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور دھمکی بھی دی کہ وہ اس سلسلے میں گستاخء رسول کے قانون کی روشنی میں اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔

آج صبع جیو ٹی ؤی کے پروگرام مارنینگ شو کی میزبان شائستہ واحدی نے اپنے اس پروگرام کے حوالے سے پوری قوم سے معافی طلب کر لی۔

ساری باتوں کی ایک بات کہ سوال یہ ہے کہ میری اس واقعہ میں کیا دلچسپی ہے۔ میں اس سارے واقعہ کا بڑی بریک بینی سے جائزہ لے رہا تھا ، کہ ایک معروف ٹی وی چینل پر کروڑو لوگ آلءمحمد اور صحابہ کی شان میں گستاخی کو دیکھتے ہیں اور اس پر اپنے غم ؤ غصہ کا اظہار بھی کرتے ہیں ۔ مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی حلقے،مزہبی جماعتیں، سیول سوسائٹی، صحافی حضرات بشمول میڈیا اس واقعہ پر کیا کردار ادا کرتا ہے۔ اگر ایک مسیحی پر الزام لگتا ہے تو ایک ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے۔ ٹی وی چینلز پر بیانات شروع ہو جاتے ہیں اور ماحول بنا دیا جاتا ہے کہ متاثرہ شخص کو کسی بھی قسم کی ہمدردی نہ مل سکے۔ مگر اتنے بڑے واقعہ پر خاموشی ایک سوالیہ نشان ہے۔ اور یہ پہلی بار نہی ہے۔ اس سے قبل بھی ایک پروگرام میں قرانی آیات کی بے حرمتی پر خاموشی پر میں لکھ چکا ہوں۔ اور رمشا مسیح کی بریت نے ثابت کیا کہ قرانی اوراق اس نے نہی جلائے تھے۔ تو پھر جس نے جلائے تھے وہ آج آزاد کیوں؟۔ اور پھر 1994 میں کورٹ نے رحمت مسیح اور سلامت مسیح کو اس وجہ سے بری کر دیا تھا کہ وہ مسجد میں گستاخانہ عبارت نہی لکھ سکتے تھے، کیونکہ وہ ان پڑھ تھے۔ تو پھر جس مولوی نے یہ شرارت کی وہ کیوں آزاد؟

Advertisements