قانون اور ضابطے
قانون اور ضابطے جِتنے پاکستان میں پامال ہوتے یا کئے جاتے ہیں شائد دُنیا کے کسی اور مُلک میں کرنا مُمکن ہی نہیں ـ مادرِ وطن میں تو کوئی اِس بات کی پرواہ ہی نہیں کرتا ـ ہم دھڑلے سے یہ ساری حرکتیں کر ڈالتے ہیں ـ جب ہم طاقت میں ہوتےہیں کوئی پرواہ نہیں لیکن جب ہمیں اِنھیں کی بدولت عتاب میں سے گُزرنا پڑتا ہے تو ہماری حالت قابلِ رحم ہوتی ہےـ افسوسناک سے افسوسناک واقعات اور کہانیاں بِکھری پڑی ہیں ـ لوُٹ مار تو آئے دِن کا معمُول ہیں ـ اب تو اخلاقیات نام کی چیزیں اور باتیں معدُوم ہوتی جا رہی ہیں ـ کل کی ہی بات ہے ایک ٹی ـ وی چینل پر نہایت ہی توہین آمیز اور قابلِ اعتراض پروگرام پیش ہُوا ـ اِس پروگرام کی وجہ سے کروڑوں کی دِل آزاری ہُوئی ـ یہ ایک قابلِ مُذمت اور شرمناک حرکت ہے ـ غیر مسلموں کو بھی بڑا دُکھ اور صدمہ ہُوا ـ بیشک توہِین رسوُلﷺ اور توہِین مذہب کے قوانین کے مقدمات مُسلمانوں پر بھی بنتے رہتے ہیں لیکن مسیحی بالخصُوص اور دیگر اقلیتیں بھی اِن کا نشانہ بنتی ہیںـ مُلتان کے ایڈووکیٹ راشد رحمان محض وکالت کی پاداش میں اور سابق گورنر پنجاب ایک مسیحی خاتوُن کیلئے گولیوں کا نشانہ بنے ہیں ـ شہباز بھٹی سابق وفاقی وزیر بھی اِسی طرح مار ڈالے گئے ـ یعنی اب تک درجنوں لوگوں
کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑےاور سینکڑوں کے اُوپر مقدمات درج ہُوئےاور وہ جیلوں میں خوف اور  دہشت میں زِندگی کے دِن پُورےکر رہے ہیں ـ موت اِنکے سروں پر بھی ہر وقت منڈلاتی رہتی ہے ـ جانےکب کوئی مار دے ـ یُو ٹیوب پر توہِین آمیز فِلم کی بدولت جانیں ضائع ہُوئیں ـ املاک کو نذرِ آتش کیا گیا ـ توڑ پھوڑ کی گئی اور نُقصان پُہنچایا گیا ـ یُو ٹیوب پاکستان میں بند کردی گئی اور آج تک بند ہے ـ

مَیں اپنے ایک مُلسم دوست کی ایک پوسٹ کو جو  اُنھوں نے اپنے فیس بُک کے ایک پیج پر شئیر کی یہاں نقل کرتے ہُوئے تحریر کررہا ہُوں ـ ’’ ھم دنیا کی سب سے انوکھی اور عجیب و غریب قوم ھیں۔ شاید ھمارے جیسے نمونے غار کے زمانے میں آیا کرتے تھے۔۔ ابھی کل کی بات لے لیجئیے۔ ایک چینل جو کہ پہلے بھی اپنی مشرکانہ حرکات اور بے حیائی کو پھیلانے کی وجہ سے انتہائی متنازعہ حیثیت اختیار کر چکا ھے ۔اور جس کی بندش کیلئے درخواستیں تک دائر ہوچکی ہیں انہوں نے مذہبی دل آزاری اور مقدس ھستیوں کی توہین کی انتہا کر دی . انتہائی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دنیا کے کسی دور دراز ملک میں ہونے والی مذہبی توہین پر کپڑوں سے باہر ہوجانے والی قوم اپنے ہاں ہونے والی توہین پر خاموشی سے تماشا دیکھ رہی ہے . ایک آدمی بھی احتجاج کیلئے باہر نہیں نکلا . کسی بھی غلط بات پر احتجاج کرنا ھر انسان کا بنیادی اور جمہوری حق ہے اور غلط بات بھی ۔ مذہب کی توہین جیسی بھی ھو تو احتجاج کرنا ضروری ہوجاتا ہے ورنہ غلط کو غلط کہنے سے گریز کی وجہ سے ایسے معاملات حدود پار کر جاتے ہیں . اسلام کی دو انتہائی قابل احترام ھستیوں کی جس طرح توہین کی گئی وہ انتہائی افسوسناک ہے اس پر حکومت کی معنی خیز خاموشی بذات خود کئی سوالات کو جنم دیتی ہے . مجھے عجیب یہ لگا ہے کہ ایسا یا اس سے کم سنگین واقعہ کسی غیرمسلم ملک میں پیش آیا ہوتا تو اب تک پوری کی پوری قوم سراپا احتجاج بن چکی ہوتی . کیا توہین صرف وہی ہوتی ہے جو غیرمسلم کریں یا اس توہین کے دائرے میں ہم خود بھی آتے ہیں ؟ دیوانہ ‘‘

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیلئے دُنیا بھر میں بالعمُوم اور پاکستان میں باِلخصُوص بڑے شد ومد سے آواز اُٹھائی گئی اور امریکہ کو ملعُون اور مطعوُن قرار دیاگیا اور اب تک دیا جاتا ہے ـ سیاستدان ، صحافی حضرات ، میڈیا اور ہر کس اور ناکس نےآسمان سر پر اٹھائے رکھا  اور اُٹھایا ہُوا ہے ـ امریکہ پر ڈونگرے بھر بھر کر گالیوں کے برسائے گئے ـ اِنصاف ، اِنصاف اور اِنصاف کے نعرے اور رٹ لگائی گئی ـ کون ہوگا جِس نے اپنے اپنے انداز میں اور اپنے اپنے طور پر کُچھ نہ کُچھ نہ فرمایا ہوگا ـ کیا پاکستان میں اِنصاف ہوتا ہے اور ہو رہا ہے ـ اور کبھی ہوگا ؟ اگر ممتاز قادری کو ہیرو بنادیا جائے ، قاری خالد چِشتی کو چھوڑ دیا جائے ـ مولانا عبدالعزیز کو نظر انداز کر دیاجائے اور ٹی ـ وی چینل کو یہ کہہ کر معافی دےدی جائے کہ اپنے ہی لوگ ہیں اِن سے غلطی ہو گئی ـ تو اِنصاف یہ تھا کہ شانتی نگر ، باہمنی والا ، سانگلہ ہِل ، گوجرہ ، بادامی باغ اور دیگر جگہوں پر چرچوں ، اسکُولوں ، اداروں کو ، مندروں ، املاک کو نذرِ آتش کر دیا جائے ـ کیا قانُون صِرف ساون مسیح ، شگُفتہ کوثر اور  شفقت عمانُوئیل کے لئے ہی ہے جِنھیں سزائے موت سُنائی گئی ـ کیا قانُون صِرف آسیہ بی بی کے لئے ہے جِسے پابندِ سلاسل کیا گیا ہے ـ

اِنصاف صِرف اپنے ہی لوگوں کے ساتھ ـ اپنے ہی ہموطنوں کے ساتھ ـ کیا اِنصاف دلانے والے آج اپنے ہی ساتھیوں کو تحفظ نہیں دیتے ؟ اِنصاف کے چیمپیئن چُپ اور خاموش کیوں رہتے ہیں جب غریب  اور بالخصوص مسیحی زد میں ہوتے ہیں اور وہ بھی کِسی جھُوٹے اور بےبُنیاد الزام کی صُورت میں ـ کیا بہتر نہ ہوگا کہ ہم اپنے مُلک کو اِنصاف پسند مُلک بنائیں ـ اِنصاف پرست بلکہ اِنصاف کرنے اور دینے والا مُلک بنائیں ـ اِنصاف چھیِننے والا اور غصب کرنے والا نہیں ـ کیوں نہیں ہم سچائی پر مبنی قانُون اور ضابطے بناتے ، اصُول بناتے ـ آج اگر اِس متعلقہ چینل کو معافی مانگنے پر معاف کر دیا جاتا ہے اور ذمہ داروں کو بچالیا جاتا جِنھوں نے اِس طرح کی غلطی کر کے کروڑوں لوگوں کے سامنے توہِین پر مبنی پروگرام پیش کیا تو یہ سمجھا جائے گا کہ توہِین کے قوانین صِرف اورصِرف غیر مُسلموں کے لئے ہی ہیں ـ یہ ایک ذریعہ ہیں جِن کی بدولت اُنھیں پریشر میں رکھنا مقصُود ہے ـ

آئیے ہم پاکستان کو پیچھےمت لے کر جائیں ـ پاکستان جِس نے کھیل کے میدانوں سے لے کر ہر شعبۂ زِندگی میں ایک پُر شکوُہ کردار  ادا کیاہے اور اعلیٰ مقام پایا ہے اِسے جاری رکھنے کے لئے تمام جھُوٹی اناؤں سے باہر نِکلیں ـ ایک دُوسرے کی لحاظ داری اور عِزت کریں ـ مذہبی باتوں میں اپنے اپنے اِیمان میں مضبُوط رہتے ہوئے کِسی کےمعاملے میں بیجا مداخلت نہ کریں اور توہِین میں آنےوالی باتوں سے کوسوں دُور رہیں ـ اِس میں ہم سب کی اور ہمارے مُلک کی بھلائی ہے ـ یُوں ہم قانُون اور ضابطوں میں رہتے ہُوئے اور مُلکی طے شُدہ اصُولوں اور باہم احترام میں رہ کر ایک پُر امن زِندگی بسر کر سکتے ہیں ـ

سیمسن طارق
موڈیسٹو کیلیفورنیا

Advertisements