رپورٹ: نیدرلینڈز: 21مئ 2014

پاکستان میں مسیحوں کے ساتھ شرمناک سلوک کا ایک اور واقعہ پیش آیا جس کی جتنی بھی مزمت کی جائے کم ہے۔ واٹسن گل،

صوبہ سندھ میں پولیس نے چار مسیحوں کو جن میں تین خواتین شامل ہیں ان پر توہین انبیا کا مقدمہ درج کر کے جیل بھیج دیا۔ یہ مقدمہ سراسر غلط اور لغو ہے۔ ان کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب یہ حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر مسیحی لیٹریچر تقسیم کر رہے تھے۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ان پر مقدمہ توہین انبیا کے تحت درج کیا گیا۔ ریلوے کے ایک ایلکٹریشننے 298 اے کے تحت یہ مقدمہ درج کروایا ہے۔

arrest-warrants-for-ex-mpa-1376428712-8281

اس مقدمے کی بد نیتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس مقدمے میں جو دفعہ لگائ گئ ہے وہ توہین انبیا ہے۔ اور زکر کیا گیا ہے کہ ان کے لٹریچر میں حضرت عیسئ اور حضرت موسئ کے متعلق غلط باتیں اور ان کی تصاویر شامل کی گئ ہیں۔ جن سے وہاں موجود مسلمانوں کی دل آزاری ہوئ ہے ، پولیس کی فرعونیت دیکھیں کہ اس نے چھ دن کا ریمانڈ لے لیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس لٹریچر میں انبیا کے متعلق کیا غلط باتیں ہو سکتی ہیں۔ ظاہر ہے اگر یہ لوگ مسیحی ہیں تو اس لٹریچر میں مسیح ابن مریم کو خدا کا بیٹا کہا گیا ہے۔ اور اگر یہ جرم ہے تو پاکستان میں موجود تمام مسیحی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ کیانکہ سب کا یہ ہی عقیدہ ہے کہ مسیح ابن مریم خدا کے بیٹے ہیں۔ دوسری بات بھی غور طلب ہے کہ اس لٹریچر میں انبیا کی تصاویر ہیں۔ تو اس کے لیئے بھی نہ صرف پاکستانی بلکہ تمام دنیا کے مسیحی مجرم ہوئے۔ کیونکہ مسیحیوں کی ایک بڑی تعداد مسیح ابن مریم کی تصویر کو اپنے گھروں میں لگاتے ہیں اور میرے جیسے لوگ جو ان تصاویر پر ایمان نہی بھی رکھتے تب بھی اسے دوسروں کے عقیدے میں مداخلت تصور کرتے ہیں۔ پاکستان میں تقریبا ہر مسیح گھر میں آخری فسح کے کھانے کی تصویر نظر آتی ہے جس میں خداوند یسوع مسیح اپنے 12 شاگردوں کے ساتھ ایک ٹیبل پر نظر آتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کوئ بھی پڑوسی مسلمان پولیس سٹیشن جاکر کسی بھی مسیحی کے خلاف درخواست دے کر مقدمہ درج کروا سکتا ہے۔

پاکستان کے سوائے شاید ہی کوئ اسلامی ملک ہو جہاں اسلام ہی کو بدنام کرنے کی سازش بہت تیزی سے جاری ہے۔ پاکستان میں اب غیر مسلم نہ صرف رسول عربی ؤ صحابہ کرام بلکہ قران کا نام بھی لینے سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں، کیا یہ اسلام کی خدمت ہے؟۔   

Advertisements