راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے سابق سربراہ ملک اسحاق کو تین مقدمات میں عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا ہے۔

یہ مقدمات انسداد دہشت گردی کی دفعہ نو کے تحت راولپنڈی ڈویژن کے مختلف شہروں اٹک، تلہ گنگ اور منگلہ میں درج کیے گئے تھے۔ یہ مقدمات مذہبی منافرت پھیلانے پر درج ہوئے تھے۔

اس مقدمے کے استغاثہ نے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج رانا مسعود اختر کو بتایا کہ پولیس نے ملزم ملک اسحاق کے خلاف مقدمات تو درج کیے تھے لیکن دوران تفتیش ایسے کسی ثبوت کو ان مقدمات کا حصہ نہیں بنایا گیا جس سے ملزم کو مجرم گردانا جاسکے۔

ملک اسحاق کے وکیل راو عبدالرحیم نے ان مقدمات میں بریت سے متعلق انسداد دہشت گردی کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی جسے عدالت نے فریقین کے دلائل سُننے کے بعد ملک اسحاق کو ان مقدمات سے بری کر دیا ہے۔ ملک اسحاق پر ایک سو سے زائد افراد کو قتل کرنے کا الزام ہے جن میں سے اکثریت شعیہ مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کی ہے تاہم وہ ان مقدمات میں بری کردیے گئے۔

 

راو عبدالرحیم نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ تینوں مقدمات گُذشتہ برس اس وقت درج ہوئے تھے جب اُن کے موکل جیل میں تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ ملک اسحاق کے خلاف پہلے 55 مقدمات درج تھے جن میں سے وہ ضمانت پر رہا ہوکر آئے تھے بعدازاں اُنھیں دوبارہ مذہبی منافرت پھیلانے اور خدشتہ نقص امن کے تحت 20 مقدمات درج کرکے دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور اُنھیں جیل میں ڈال دیا گیا۔ کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق ان دنوں جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور کی جیل میں ہیں۔

یاد رہے کہ ملزم ملک اسحاق کو سنہ دوہزار نو میں پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی سری لنکا کی ٹیم پر لاہور میں ہونے والے حملوں کا ماسٹر مائینڈ قرار دیا گیا تھا تاہم اُن کی اس مقدمے سمیت دیگر مقدمات میں عدالتوں نے ضمانتیں منظور کر لی تھیں۔ امریکہ نے فروری سنہ 2014 میں ملک اسحاق کو بین الااقوامی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا اس کے علاوہ لشکر جھنگوی کو عالمی شدت پسندوں کی تنظیموں میں شامل کیا ہے۔

Advertisements