واٹسن سلیم گل،

نیدرلینڈز: 17 جون 2014

اگر پرویز مُشرف پر لال مسجد پر حملے کے خلاف مقدمہ درج ہو سکتا ہے تو نوازشریف پر مہناج القران کے سیکرٹیریٹ پر حملے کی بنیاد پر کیوں نہی،

مہناج القران کے سیکرٹیریٹ پر حملے میں جناح ہپستال کے ذرائع نے دو خواتین سمیت آٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ13 سے زائد پولیس اہل کاروں سمیت 150 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایک بات جو منہاج القرآن یونیورسٹی کے طلبہ اور ڈاکٹر طاہر القادری کے حوالے سے سمجھی جاتی ہے۔ کہ یہ گروپ شدت پسندوں کی مزمت کرتا آیا ہے اور مجھے یاد نہی کہ شیخ ال اسلام نے کبھی مہناج القران کے طلبہ کو مسلح حملوں کی ترغیب دی ہو۔ نہ ہی ہم نے کبھی اس گروپ کے ڈنڈا بردار لوگوں کو سڑکوں پر قانون ہاتھوں میں لیتے دیکھا ہے۔ اس سانحے سے قبل پولیس یا قانون نافز کرنے والے اداروں کے لئے یہ گروپ کبھی بھی سر درد نہی رہا، یعنی ایک رات قبل پولیس یہاں پہنچی اور اتنا نقصان ہو گیا، جبکہ حکومت اپنی صفائ پیش کر رہی ہے اور مقدمہ بھی سرکاری مدیت میں درج کیا گیا ہے۔

اس سانحے کے برعکس اگر آپ لال مسجد والوں کا حال دیکھیں تو پاکستان کے تمام متکبہ فکر کے لوگ اس بات پر متفق تھے کہ لال مسجد میں جدید اسلحہ سے لیس دہشت گرد موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ڈنڈہ بردار خواتین نے باقائدہ طور پر قانون ہاتھ میں لے رکھا تھا۔ اور پرویز مشرف کی حکومت نے دنو، ہفتوں نہی بلکہ مہینوں ان کو سمجھانے کی کوشش کی بار بار مزاکرات ہوئے۔ یہاں تک کہ ان ڈنڈا بردار خواتین نے چند چینی خواتین کو بھی اغواہ کیا جس سے پاکستان کی سُبکی بھی ہوئ۔ اور بھر مزکرات کے دوران جب لال مسجد کے مسلح دہشتگردوں نے پاک فوج پر فایئرنگ کی اور اس فائرنگ سے ایک کرنل سمیت کچھ فوجی بھی شہید ہوئے تب آپریشن کیا گیا۔  اس آپریشن کا مقدمہ جنرل پرویز مشرف پر دائر کیا گیا اور آج تک ان پر تنقید کی جاتی ہے۔

اب اگر ان دونوں واقعات کا بغور جائزہ لیا جائے تو لال مسجد کے طلبہ تو معصوم نہی تھے، ان کے پاس سے جدید اسلحہ کے ساتھ نائٹ واچ گوگلس بھی نکلے جو کہ عام طور پر جاسوس یا پھر فوج استمال کرتی ہیں۔ اس کے باوجود بھی مشرف پر بہت زیادہ تنقید کی گئ ۔مگر مہناج القران والے تو معصوم تھے پھر کیوں اتنے لوگوں کا قتل عام کیا گیا۔ اور بےشرمی کی حد یہ ہے کہ نوازشریف، رانا ثنا اللہ تو کیا کسی سب انسپیکٹر پر بھی مقدمہ نہی۔ کیا اس طرح کے واقعات مارشل لا کو دعوت نہی دیتے۔ جمہوری حکومتوں کی یہ لعن ترانیا ، بے انصافیاں۔ ظلم، چور بازاری ، بد معاشی یہ ہی وہ وجوہات ہیں جو فوج کو حکومت کا تختہ الٹانے پر مجبور کرتی ہیں۔  

Advertisements