آواز تُم دباتے رہو ہم بولتے رہیں گے
بند ہُوئے دروازوں کو ہم کھولتے رہیں گے
درد جو دیئے تُم لوگوں نے مسیحیوں کو بیشمار
دُکھڑے پِسے ہُوؤں کے ہم پھولتے رہیں گے
یورپی پارلیمِنٹ ہو یا دُنیا کا کوئی اور فورم
بڑھ بڑھکر سب ہی کو ہم جھنجھوڑتے رہیں گے
قوانین توہِین کے ہوں یا جھُوٹے ہوں مُقدمات
اِن کا پھیلا زہر ہم نچوڑتے رہیں گے
ہُوا جو کُچھ آج دِن تک سُنو یہ غافلو
عرشِ معلیٰ کے حضُور ہم بولتے رہیں گے
سیمسن طارقؔ

Poster 27-6-14 Parvez Iqbal,

Advertisements