یورپ کی عدالت برائے انسانی حقوق نے پورے چہرے کے پردے (نقاب) پر فرانس کی جانب سے لگائی جانے والی پابندی کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔

عدالت نے یہ فیصلہ ایک چوبیس سالہ فرانسیسی خاتون کے مقدمے میں سنایا جس میں ان کا مؤقف تھا کہ عوامی مقامات پر نقاب پہنے پر پابندی سے ان کی مذہبی اور اظہار کی آزادی کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

یاد رہے کہ فرانسیسی قانون کے مطابق ملک میں کوئی بھی خاتون عوامی مقامات پر ایسا لباس نہیں پہن سکتی جس کا مقصد چہرے کو چھُپانا ہو۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر آپ کو 150 یورو کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون سنہ 2010 میں صدر نکولس سرکوزی کی قدامت پسند حکومت کے دور میں منظور ہوا تھا۔

انسانی حقوق کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ چہرے کے پردے پر مذکورہ پابندی میں ’ کسی لباس کی مذہبی حیثیت کو بنیا نہیں بنایا گیا تھا، بلکہ اس پابندی کی تمام بنیاد اس استدلال پر تھی کہ ایسے لباس سے آپ کا چہرہ چُھپ جاتا ہے۔‘

عدالت سے جاری ہونے والے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت نے فیصلہ سناتے وقت ’حکومت کی اس استدعا کو بھی نظر میں رکھا ہے کہ معاشرتی میل ملاپ میں آپ کے چہرے کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے۔

’عدالت نے اس نکتہ نظر کو بھی سمجھا ہے کہ لوگ عوامی مقامات پر شاید ایسے رویوں یا عادات کا مظاہرہ دیکھنا نہ پسند کریں جس سے یہ لگے کہ دو افراد ایک دوسرے سے کھُل کے بات نہیں کرسکتے۔ ایک ایسے معاشرے میں کہ جہاں اس معاملے پر مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ افراد کے درمیان میل جول معاشرتی زندگی کا لازمی جزو ہے، ایک دوسرے سے چہرہ چھپانے پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

 

Advertisements