واٹسن گل،(ہالینڈ) :
نائجیریا میں مغوی طالبات کو اغواہ ہوئے آج لگ بھگ بیاسی دن گُزر گئے، مگر دنیا کے یہ ٹھیکیدار جدید ٹیکنولوجی کے باوجود ابھی تک ان بدںصیب بچیوں کے لیئے کچھ نہی کر سکے۔
یہ معصوم بچیاں جو کہ یہ بھی نہی جانتی کہ ان کا کیا قصور ہے۔ یہ بچیاں مُسلمان بھی ہیں اور مسیحی بھی، ان کو ان کی مرضی کے بغیر ایک ایسی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا جس کا یہ تصور بھی نہی کر سکتیں تھی۔ ان میں سے مسیحی بچیوں کو جبری مسلمان بنا دیا گیا۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ شیطان خود بھی مسلمان نہی ہیں ،کیونکہ اگر یہ مسلمان ہوتے تو کم از کم مسلمان بچیوں کو ضرور آزاد کر دیتے۔ جبکہ کہ بوکو حرام کے ان جگجوؤں نے ان میں سے کئ بچیوں کو محض 12 ڈالر کے عوض سیکس کے لئے بیچ دیا۔ جن میں سے ایک بڑی تعداد مسلمان بچیوں کی بھی ہے۔
14 اپریل کی رات کو بوکوحرام نے گورنمنٹ گلز سیکنڈری اسکول چبوک 135 کلومیٹر مغربی میدوگڑی نایئجریا پر حملہ کردیا۔ حملہ آوروں کی تعداد 100 سے زایئد تھی اور وہ جدید اسلحہ سے لیس تھے۔ انہوں نے اسکول کی بلڈنگ کو آگ لگا دی اور تقریبا 5 گھنٹے تک دہشتگری کرنے کے بعد 276 نوجوان لڑکیوں کو اغوا کر کے لے گئے۔ جن میں سے چند لڑکیاں ایک ٹرک کے خراب ہونے اور اسے ٹھیک کرنے کے دوران  اغواہ کاروں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیں۔
5 مئ 2014 کو بوکوحرام کی جانب سے کہ وہ ان بچیوں کو مختلف دہشتگرد تنظیموں کے ہاتھوں ان کی جنسی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے فروخت کر دینگے۔
12 مئ کو بوکوحرام نے نایئجریا کی حکومت کو ایک پیشکش کی کہ ان بچیوں کے عوض بوکوحرام کے تمام قیدوں کو آزاد کر دیا جائے۔ یہ پیغام انہوں نے اپنی ایک ویڈیو کے زریعے حکومت تک پہنچایا۔
17 مئ 2014 کو فرانس میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انقاد ہوا جس کا مقصد بوکوحرام کے خلاف کاروائ کرنا تھا۔ مگر نایئجریا کو خبردار کیا کہ اس حوالے سے نایئجریا کو بھی اس کی قیمت دہشتگرد حملوں کی صورت میں چُکانی پڑے گی۔ مگر نایئجریا کی حکومت کی ہچکچاہٹ کی وجہ سے ابھی تک کوئ طاقت کا استمال نہی کیا گیا۔ کیونکہ نایئجریا کی حکومت نت 27 مئ کو دعواہ کیا کہ ان کو بوکوحرام کے ٹھکانوں کا پتہ چل چکا ہے۔  
 
اسی سٹیٹ میں تمام لڑکیوں کے اسکول بند کر دئے گئے ہیں۔ کیونکہ لوگ بوکو حرام سے خوفزدہ ہیں۔ بوکوحرام نایئجریا کے خلاف 2009 سے برسرپکار ہے۔ بوکوحرام جس کا مطلب مغربی تعلیم کو ختم کرنا ہے۔ بوکوحرام کا مقصد شمالی نایجریا میں ایک اسلامی اسٹیٹ کا قیام ہے جس میں ان کی شعریت کے نفاز کو یقعنی بنانا ہے۔ اس تنظیم نے صرف 2014 میں نایجریا میں تقریبا 1500 لوگوں کو بےدردی سے قتل کر دیا
 میں سمجھتا ہوں کہ یہ واقعہ انتہائ خوفناک ہے، اگر اس کے خلاف قدم نہ اٹھایا گیا تو ہر دہشتگرد تنظیم معصوم جانو کو یر غمال بنا کر اپنے عزائم کو پورا کرنے کے لئے استمال کرے گی۔ یہ وقت ہے کہ اس طرح کے واقعات کی سختی سے مُزمت ہونی چائے اور مسلمان ملکوں اور میڈیا کو اس میں بڑا کردار ادا کرنا چائے، کیونکہ اس طرح کے لوگ مزہبءاسلام کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ جو بلند آواز میں اپنے شیطانی عزائم کو اسلام کے ساتھ منسلک کرتے ہیں۔ جبکہ قران میں تو قیدیوں کے ساتھ بھی اس طرح کے سلوک کی ممانت کی گئ ہے،
Advertisements