آج ڈھائ سال گُزرنے کے باوجود بھی ایزک سیمسن کا کوئ سراغ نہی ملا۔ 27 سالہ مسیحی نوجوان کو29 فروری 2012 کو چند دہشتگردوں نے اورنگی کراچی میں واقع کورین ہسپتال (گوڈ سمارٹیئن ہسپتال) سے دو مسیحی نوجوانوں کو اغواہ کر لیا تھا۔ یہ ہسپتال ساؤتھ کوریا کی ملکیت تھا۔ یہ دو مسیحی نوجوان ایزک سیمسن اور جاوید اندریاس ہسپتال کی وین میں کام پر جارہے تھے کہ راستے میں چند دہشتگردوں نے جو جدید اسلحہ سے لیس تھے ان دونوں کو اغواہ کر لیا ، جاوید اندریاس ایک ماہ بعد ان کے چنگل سے فرار ہو نے میں کامیاب ہو گیا مگر ایزک سیمسن کا آج تک کوئ سراغ نہی ملا۔ ہم  حکومت پاکستان سے درخواست کرتے ہیں  کہ ایزک سیمسن کو جلد اغوا کاروں کے چنگل سے نجات دلائ جائے۔

378127_170764039758065_1072002289_n

۔ گلوبل کرسچن وائس کے پڑھنے والوں کو یاد ہو کہ ہم نے بھی 29 فروری 2012 کو اس خبر کو رپورٹ کیا تھا۔ آج اس کی فیملی کی جانب سے مجھے ایک دُعا کی درخواست موصول ہوئ۔ مجھے یہ کیس یاد آگیا اور میں واقعی دُکھی ہو گیا۔ کہ ہم انسان کتنے بے بس ہیں کچھ نہی کر سکتے۔ مگر ہم دُعا کرتے ہیں کہ خدا اس غمزدہ خاندان سے ان کے بیٹے کو جلد ملائے۔ یونس صادق  جو کہ اس وقت سے روزانہ کراچی پولیس کو ٹیکسٹ میسج کے زریعے اپنے بیٹے کی گمشدگی کو یاد دلاتا رہتا ہے۔ خدا کرے کہ ان کی بے چینی کا خاتمہ ہو اور ان کا بیٹا جلد ان کے درمیان موجود ہو۔

Advertisements