واٹسن گل،

نیدرلینڈز: 10 جولائ 2014

جناب نیعم وایز صاحب برسلز میں مظاہرے کے حوالے سے عوام شو میں حوصلہ افزاءاور پُروقارگفتگو پرخراجءتحسین کے مستحق ہیں۔

10464046_736241849750258_4864174710247811176_n

میں جناب تسکین خان کے پروگرام عوام شو کا نشرمکرر دیکھ رہا تھا۔ میری ملاقات جناب نعیم وائز صاحب سے برسلز میں مظاہرے کے دوران ہوئ، چھوٹی سے ملاقات میں میں ان کی مثبت سوچ اور فکر پر میں پہلے ہی ان کی شخصیت سے متاثر تھا۔ آج مظاہرے کے حوالے سے عوام شو میں ہم سب کی حوصلہ افزائ مجھے اچھی لگی، ان جیسے فکرؤفلسفے کے لیڈرز ہمارے لئے بلکل ایسے ہی ہیں جیسے تنگ ؤ تاریک غار میں روشنی کی ایک کرن نظر آ جائے۔ اس ؐطاہرے کے حوالے سے بہت سے تجربات کا سامنا رہا۔ کچھ اچھے اور کچھ تلخ حالات نے سیکھنے کے عمل کو دوام بخشا۔ میں جہاں اس بات پر مطمعین ہوں کہ ہم نے جس پلیٹفارم پر آواز اٹھانی تھی، اس میں ہم کامیاب رہے۔ کیونکہ ہالینڈ، بیلجیئم اور ناروے کے پارلیمنٹ بشمول یوروپیئن پارلیمنٹ ممبرز کی شمولیت نے یہ ثابت کر دیا کہ ہم نے اپنی آواز متلعقہ ادارے تک پہنچا دی۔ اور چاہئے کم ہی صیح مگر یورپ اور برطانیہ سے مسیحی متحد ہو کر ایک جگہ اکھٹے ہوئے، ان میں کئ لیڈرز جن کی اپنی زاتی پہچان بھی تھی مگر وہ کمیونٹی کی یکجہتی کے لئے بغیر کسی گھمنڈ اور تکبر کے اپنی زاتی حیثیت کو پسءپُشت ڈال کر سامنے آئے۔ اور بہت سے ایسے کمیونٹی لیڈرز بھی تھے جو اس مظاہرے کو شروع دن سے سپورٹ کرتے رہے مگر کسی وجہ سے شامل نہ ہوسکے، ان کی سپورٹ بھی ہمارے لئے تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند تھی۔  مگر جس چیز نے ہمیں سب سے زیادہ مایوس کیا وہ ہمارے مسیحی میڈیا سیل تھے۔ یہ مظاہرہ میری ناقص رائے کے مطابق یورپ اور برطانیہ کے مسیحوں کو سب سے بڑا ایونٹ تھا۔ جون میں مجھے نہی یاد کے ہمارے مسیحی حلقوں میں اس سے زیادہ اہم ایونٹ کوئ اور تھا، مگر پھر بھی ہمارے مسیحی میڈیا کی جانب سے اسے بھرپور طریقے سے نظرانداز کیا گیا۔ چاہئے الیکٹیرک میڈیا ہو یا نیوز یا سوشل میڈیا مجھے کہں بھی اس مظاہرے کے حوالے سے نظر نہی آیا کہ اس مظاہرے کی حوصلہ افزائ کی گئ ہو۔ سوائے چند ایک طنز کی خبروں کے علاوہ کہیں بھی کوئ کردار نظر نہی آیا ۔ ہاں میں جناب تسکین خان اور جناب جان باسکو صاحب کو ضرور خراج تحسین پیش کرونگا جنہوں نے اپنے طور پر اس مظاہرے کو سپورٹ کیا ،تسکین خان صاحب نے ہر ہفتے اپنے پروگرام میں اپنے طور پر اور کبھی ہماری فون کال پر اس ایشو پر بات کی مگر ان کا ادارہ اس جدوجہد میں کیوں شامل نہ ہوا یہ ایک اہم سوال ہے۔

ہم سب کا ہمیشہ یہ شکوہ ہوتا ہے کہ قوم اکھٹی نہی ہوتی۔ اور ہمارے ادارے اس کا بہت ڈھول پیٹتے ہیں۔ اور ہمارے مزہبی، سیاسی ،سماجی اور اداروں کے لیڈرز کی نظر میں اتحاد اور یکجہتی صرف تب ہو سکتی ہے جب وہ خود کوئ مظاہرا یا اجتماح کریں۔ ورنہ سب بکواس ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ کسی بھی ایسے شخص کو یہ حق نہی پہنچتا کہ وہ قوم میں اتحاد کے فقدان کا رونا روئۓ جس نے خود کبھی قوم کو اکھٹا کرنے کی کوشش کی ہو۔ یا اس طرح کی کوشش کا حصہ رہا ہو۔

میں آج بھی کہتا ہوں کہ خدارا جو ہمارے مخالف ہیں آپ آگے آیں اور قوم کو یکجا کریں ،اس کارءخیر میں اگر آپ میرے ساتھ نہی چل سکتے تو کیا ہوا ،میں آپکے پیچھے چلنے کے لئے تیار ہوں۔ یہ میرا وعدہ ہے۔

Advertisements