پاکستانی ڈچ کرسچن کمیونٹی مائیکل ٹاؤن کراچی کے مسیحوں کے ساتھ ہونے والے نارواں سلوک پر احتجاج کرتی ہے اور جناب الطاف حسین صاحب سے درخواست کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں مسیحیوں کو تحفظ فراہم کیا جایئے۔ واٹسن سلیم گل، ساجد بھٹی، پاسٹر ندیم دین، عابد شکیل، اعجاز سرفراز، جان بھٹی نے ایم کیو ایم کے لیڈر جناب الطاف حسین سے درخواست کی کہ اپنی توجہ مائیکل ٹاؤن کے مسیحوں کے حالات کی جانب کریں۔ مائیکل ٹاؤن جو کہ کورنگی میں واقع ہے اور ایم کیو ایم کی مکمل حمایت اس علاقے کو حاصل ہے۔ اس علاقے میں مسیحوں کے 280 خاندان آباد ہیں ،مگر ان کو پینے کا پانی میسر نہی جبکہ آس پاس کے علاقوں میں پانی کی پائپ لاینوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ یہاں کے مسیحی دہشت اور خوف مین زندگی گُزارنے پر مجبور ہیں۔ پشاور بم دھماکے کے واقعے کے بعد چند شر پسندوں نے اس علاقے کی مسجد پر پتھر پھینک کر مسلمانوں کو دعوت دی کہ وہ مسیحی علاقوں پر دھاوہ بول دیں اور یہ ہی ہوا۔ بہت سے مسیحی مکانات اور علاقے میں موجود ایک چھوٹے سے گرجا گھر کو تباہ کر دیا گیا اوربہت سی  بائیبل مقدس کو بھی جلا دیا گیا۔

ایم کیو ایم نے ہمیشہ اقلیتوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کی بات کی ہے۔ جناب الطاف حسین بارہا اپنی تقاریر میں اقلیتوں سے برابری کے سلوک کے متعلق زکر کر چکے ہیں، مگر مایئکل ٹاؤن میں مسیحوں کے آس پڑوس والے ان سے ملنا تو کیا بات کرنا قبول نہی کرتے۔ ہماری جناب الطاف حسین سے درخواست ہے کہ اپنے اقلیتوں کے حوالے سے دیئے گئے بیانات کو عملی جامہ پنہا کر پاکستان میں ایک نئ مثال قائم کریں ،ہم سمجھتے ہیں کہ آپ کو دیکھ کر دوسرے صوبوں میں بھی شائد اصلاح ہو جائے۔

 

Advertisements