واٹسن سلیم گل نیدرلینڈز،

کیا یہ منافقت نہی ہے۔ پاکستان میں اقلیتوں کو شراب نوشی سے روکنے کے حوالے سے بل کی مخالفت کیا منافقت نہی ہے اقلیتوں بلخصوص مسیحیوں کی کتاب مقدس میں مسیحوں کو قطئ طور پر شراب کی اجازت نہی ہے۔ اگر کوئ پیتا ہے تو یہ اس کا انفرادی فعل تو ہو سکتا ہے مگر مسیحیت مین اس کی اجازت نہی ہے۔ پاکستان ایک مُسلم ریاست ہے۔ اگر کسی مزہب میں شراب کی اجازت ہو تب بھی پاکستان میں بلکل اسی طرح ممانت ہونی چاہیئے جیسے کہ سعودی عرب میں کسی بھی مزہب کے شہری کو شراب کی اجازت نہی ہے۔ ہم پاکستانی مسیحی آسیہ ناصر کے اس بل کی حمایت کرتے ہیں ۔ آسیہ ناصر کا تعلق جمعت علماءاسلام ف سے ہے اور وہ ایک بہادر اور نڈر مسیحی خاتون ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی جناب ایاز صادق نے اس بل کون لیگ کے رکن قومی اسمبلی محمود بشیر ورک کو بجھوا دیا تھا۔ ۔بشیر ورک کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں بہت سے ممبرز نے اس بل کی کھل کر مخالفت کی یو لگ رہا تھا جیسے یہ بل ان کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ ایک بیان جو کہ کمیٹی کے چیئرمین کی جانب سے تھا کہ جن لوگوں نے بل پر دستخط کئے اور پیش کیا ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں جن کا اپنا شراب کا پرمٹ ہے۔ میں یہ پوچھتا ہوں کہ کیا یہ دلیل ہے جو یہ بل مسترد کیا گیا۔ پاکستان میں مجموعی آبادی کا ایک بڑا حصہ غربت کی سطع سے بھی نیچے کی زندگی گزار رہا ہے ۔ان میں مسیحوں کی حالت کسی سے بھی ڈھکی چُھپی نہی ہے۔ غریب کو پیٹ بھر روٹی مل جائے تو بہت ہے، شراب چایئے مسیحی ہو یا مسلمان وہ ہی پی سکتا ہے جس کے پاس پیسہ ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین جناب محمود بشیر ورک کہتے ہیں کہ بہت سے مسلمان اقلیتوں کی پرمٹ پر شراب خرید کے پیتے ہیں تو مین سمجھتا ہوں کہ کمیٹی کے سربراہ کو تو بلکہ اس بل پر خصوصی توجہ دینی چاہئے اور اسے منضور کروانے کے لئے لابینگ کرنی چاہے تا کہ نہ صرف اقلیتیں بلکہ مسلمان بھی جو شراب پیتے ہیں اس عمل ء شر سے نجات ھاصل کریں۔ پیپلز پارٹی اور دیگر ارکان اسمبلی نے اس بل کو اقلیتوں کی ازادی میں رکاوٹ قرار دیا۔ چلو کم از کم اقلیتوں کے دوسرے مسایئل کو چھوڑ کر یہ ارکان اقلیتوں کو شراب جیسی لعنت کی آزادی کے لئے آواز اٹھا رہے ہیں۔ نوید قمر کو اقلیتوں کے بنیادی حقوق تو یاد نہی آئےمگر وہ اس بل کی مخالفت میں سب سے آگے نظر آ رہے ہیں۔ ایک بات جو غور طلب ہے وہ یہ کہ بہت سے ارکان اسمبلی جو کہ مختلف سیاسی پارٹیوں ست وابستہ ہیں ایک بات پر متفق نظر آئے کہ اقلیتوں کا سب سے بڑا حق ان کو شراب کی اجازت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئ اس اہم مسئلے میں واقئ سنجیدہ ہے تو پہلے تو اقلیتوں کے نمایندوں سے پارلیمنٹ میں کھلے عام اس بل پر رائے لی جائے تاکہ معلوم ہو کہ کونسا ممبر اس بل کے حق میں ہے اور کونسا اس کے مخالف، کیونکہ اس کا فیصلہ اس کی کمیونٹی کرے گی۔ اس کے بعد دوسرے سیشن میں اکثریتی مزہب کے ارکان کی بھی رائے لی جائے تا کہ ہمارے مسلمان بھایئوں کو بھی ان ارکان کو سمجھنے کا موقع ملے۔

Advertisements