اسلامی ریاست نے مسیحیوں سے جزیہ طلب کر لیا

اسلام پسندوں نے عراق کے شمالی علاقوں میں آباد مسیحیوں سے کہا ہے کہ وہ اسلام قبول کریں یا جزیہ دیں، بصورتِ دیگر موت کے لیے تیار رہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسلام پسندوں نے مسیحیوں کے لیے اس انتباہ پر مبنی ایک اعلامیہ اپنے زیرِ کنٹرول علاقے موصل میں تقسیم کیا ہے۔

یہ اعلامیہ دہشت گرد گروہ القاعدہ کی ایک شاخ اسلامک اسٹیٹ نے جاری کیا ہے جس نے گزشتہ ماہ عراق کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرنے کےلیے کارروائیاں کیں اور بعدازاں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں خلافت کا اعلان کر دیا۔ روئٹرز نے بھی یہ اعلامیہ حاصل کیا ہے۔ اسلام پسندوں کا کہنا ہے کہ اس کا اطلاق آج ہفتے کو ہو جائے گا۔

اس بیان میں کہا گیا ہے کہ خلافت میں رہنے کے خواہش مند مسیحیوں کو ’دھیما‘ معاہدے کی شراط کا احترام کرنا ہوگا۔ یہ ایک تاریخی معاہدہ ہے جس کے تحت مسلمانوں کے زیر انتظام علاقوں میں آباد غیر مسلموں کو اپنے تحفظ کے عوض ایک خاص ٹیکس دینا پڑتا تھا جسے جزیہ کہا جاتا ہے۔

اسلامی ریاست نے اس اعلامیے میں مزید کہا ہے: ’’ہم انہیں (مسیحیوں کو) تین راستے دیتے ہیں: اسلام؛ دھیما معاہدہ جس میں جزیہ کی ادائیگی شامل ہے؛ اگر وہ انکار کرتے ہیں تو ان کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں بلکہ انہیں تلوار کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘

 

موصل کے ایک رہائشی کے مطابق یہ اعلامیہ جمعرات کو تقسیم کیا گیا اور مسجدوں میں بھی پڑھ کر سنایا گیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اسلامی ریاست کے رہنما ابو بکر بغدادی جسے خلیفہ ابراہیم قرار دیا جا چکا ہے، نے اس اعلامیے کے نفاذ کے لیے ہفتہ انیس جولائی کی حتمی تاریخ مقرر کی ہے جس کے بعد ایسے مسیحیوں کو ’اسلامی خلافت کی سرحدوں سے نکلنا ہوگا‘ جو ان شرائط پر عمل کرنا نہیں چاہتے۔

یہ اعلامیہ عراق کے شمالی صوبے نینوا میں قائم اسلامی ریاست کے نام پر جاری کیا گیا ہے جس میں مزید کہا گیا ہے: ’’اس تاریخ کے بعد، ان کے اور ہمارے درمیان تلوار کے علاوہ کچھ نہیں رہے گا۔‘‘

خیال رہے کہ رواں برس فروری میں اسی گروہ نے شام کے شہر رقع میں بھی ایسا ہی اعلان کیا تھا جس میں مسیحیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ تحفظ چاہتے ہیں تو سونے کی شکل میں جزیہ ادا کریں اور اپنے مذہب کی پیروی بند کریں۔

روئٹرز کے مطابق دھیما ایک ایسا نظریہ ہے جس کے تحت اسلامی حکومت کے تحت غیر مسلموں کو کنٹرول کیا جاتا تھا۔ یہ ساتویں صدی عیسوی میں اسلام کے ابتدائی دَور میں رائج تھا تاہم سلطنتِ عثمانیہ کی جانب سے انیسویں صدی میں اصلاحات کے نتیجے میں یہ بڑی حد تک ختم کر دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ ایک وقت میں موصل میں مختلف مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے تھے۔ ایک دہائی قبل وہاں مسیحیوں کی آبادی ایک لاکھ تھی۔ تاہم 2003ء میں صدام حسین کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے امریکی قیادت میں عراق پر حملے کے بعد مسیحیوں کو بھی نشانہ بنایا جانے لگا جس کے بعد وہاں ان کی آبادی کم ہونا شروع ہو گئی۔

موصل کے ایک رہائشی کے اندازے کے مطابق گزشتہ ماہ شدت پسندوں کی جانب سے شہر کا کنٹرول سنبھالنے سے پہلے وہاں مسیحیوں کی آبادی پانچ ہزار تھی۔ اس نے خیال ظاہر کیا کہ اب تقریباﹰ دو سو مسیحی اس شہر میں آباد ہیں۔

Advertisements