پاکستانی ڈچ کرسچن کمیونٹی گوجرانوالہ میں اقلیتوں کے قتل کی بھرپور مزمت کرتے ہیں۔ واٹسن گل، پاسٹر ندیم دین، ایلڈر ساجد بھٹی، ایلڈراعجاز سرفراز نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اقلیتوں کی جان و مال کی حفاظت ان کی زمیداری ہے۔ اگر کہیں مزہب کی توہین ہوئ ہے تو اس کے لئے قانون موجود ہے۔ تو پھر کیوں لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لیکر خود سزا ؤ جزا کا فیصلہ کرتے ہیں۔

bombing-pakistan

صوبے پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں ایک مشتعل ہجوم نے ایک خاتون اور دو بچوں سمیت چار احمدیوں کو قتل کر دیا اور پانچ کو شدید زخمی کر دیا گیا۔ اسکے علاوہ ان کے گھروں کو آگ لگا دی گئ۔ گوجرانوالا میں پیپلز کالونی کے ڈی ایس پی کے مطابق ایک احمدی نوجوان کی جانب سے فیس بک پر مبینہ توہین آمیز مواد کی اشاعت کے بعد ایک ہجوم نے احتجاج کرنا شروع کیا جو بعد میں مشتعل ہو گیا اور اس نے احمدیوں کے گھروں کو آگ لگانا شروع کر دی۔ اور اسکے نتیجے میں پہلے ایک بچے کو گولی لگی جس سے وہ موقع پر جاں بحق ہو گیا اور پھر صورتحال کنٹرول سے باہر ہو گئ۔ اس وقت بھی علاقے میں کشیدگی پائ جاتی ہے۔ علاقے میں رہنے والے احمدی دوسرے علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستانی میڈیا اسے دو گروپوں کے درمیان تصادم قرار دے رہا ہے۔ جبکہ بین لاقوامی میڈیا کا موقف کچھ اور ہے۔

Advertisements