واٹسن سلیم گل
ایمسٹرڈیم: 2 اگست 2014

چھ اگست 1945 کا دن نہ صرف گزشتہ صدی کا ایک ہولناک دن تھا،
بلکہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کی تاریخ میں بھی نسل انسانی کے لئے ایک دہشت کا نشان بن چُکا ہے۔ اور ویسے بھی اگست کا پہلا ہفتہ حیرت انگیز طور پر ایک تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ پہلی عالمی جنگ اگست کے پہلے ہفتے میں 1914 میں شروع ہوئ اور دوسری عالمی جنگ کا خاتمہ بھی اگست کے پہلے ہفتہ کو 1945 میں ہوا۔
Crew of the B-29 "Enola Gay"
سوموار 6 اگست کا وقت بی 29 جہاز جسے اینولہ گے کا نام دیا گیا ایک انتہائ سیکرٹ مشن پر روانہ ہوا۔ اینولہ گے ٹھیک 2 بجکر 45 منٹ پر جاپان کے جنوب میں واقع شمالی پیسفیک جزایئر سے بلند ہوا۔ اس جہاز کو جو کہ انتہائ خفیہ مشن پر تھا اسکے پالیئٹ کرنل پال ٹبیٹس تھے، اس جہاز میں کچھ تبدیلیاں کر کے اسے ایک خاص مقصد لے لئے تیار کیا گیا تھا۔ اس جہاز میں ایک ایسا بم تھا جسے یورونیم 235 سے تیار کیا گیا تھا۔ اس خطرناک ہتھیار کو بنانے والے بھی نہی جانتے تھے کہ اس کے کیا اثرات ہونگے کیونکہ یہ تیاری کے بعد تجربہ کے مرحلے سے بھی نہی گزرا تھا۔ انیولہ گے سے آگے دو جہاز روانہ کئے گئے تھے کہ موسم اور حالات کا جائزہ لے سکیں اور دو جہاز انیولہ گے کے ساتھ تھے جو کہ جدید کیمروں اور آلات سے لیس تھے کہ اس ایٹمی ہتھیار جسے لٹل بوئے کا نام دیا گیا تھا اس کی تابکاری، حدت اور اس سے ہونے والے نقصان کا ڈیٹا ریکارڈ کر سکیں۔ ان کی منزل ایٹمی حملوں کے لئے چُنے گئے چار شہروں میں سے ایک شہر ہیروشیما تھی۔ اسکے بعد ناگاساکی، ککورہ اور پھر نیگاتا کی باری تھی۔ ہیروشیما چونکہ صنعتی اور فوجی اعتبار سے نہایت اہم شہر تھا۔ لہزا پہلا ٹارگٹ تھا۔
چھ اگست 1945 کو ٹھیک 8:15 بجے صبح مقامی وقت کے مطابق اینولہ گے نامی جہاز نے دنیا کے پہلے ایٹمی بم لٹل بوئے کو 19000 ہزار فٹ کی بلندی سے ہیروشیما پرپھینک دیا۔ اس واقعہ کی تصویر کشی کرتے ہوئے سارجنٹ جارج کیرون جو کہ اس جہاز کے پچھلے حصے میں سوار تھے، فرماتے ہیں کہ انہوں نے جامنی رنگ کا بادلوں سے بھرا مشروم دیکھا جس کے درمیان میں سرخ رنگ کی آگ تھی جس پر انسانی نظر نہی ٹک سکتی تھی۔ معاون پایئلٹ کیپٹن رابرٹ لویئس اس خوفناک واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ محض دو منٹ قبل جو شہر نطر آرہا تھا وہ اب آگ اور دھویئں سے بھر گیا تھا اور صرف دو منٹ میں پورا شہر تباہ ہو چکا تھا۔
ہیروشیما کی آبادی جنگ سے قبل تقریبا 4 لاکھ کے لگ بھگ تھی جو 1945 میں جنگ اور خوف سے فرار ہونے والوں کی وجہ سے تقریبا 3 لاکھ اور چالیس ہزار تھی۔ جس میں سے 80 ہزار کے قریب تو اسی وقت لقمہ اجل بن گئے اور باقی 1 لاکھ کے قریب لوگ پانچ سال کی مدد میں ایٹمی تابکاری کے سبب سے دنیا سے گزر گیئے یہ صرف ہیروشیما کا حال ہے۔ ناگا ساکی کی حالت بھی اس سے کم نہی تھی۔
ایک طرف تو6اگست کو ہروشیما اور 9 اگست کو ناگاساکی پر ایٹم بم کے اس حملے نے دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ کر دیا مگر ان تین دنوں میں دولاکھ سے زیادہ معصوم شہری لقمہ اجل بن گئے، مگر بات یہاں ختم نہی ہوئ بلکہ ان ایٹمی حملوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے، ایٹمی تابکاری اور اس کے نتیجے میں والی بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے وقت ہیروشیما کی کمانڈ فیلڈ مارشل شنکوروہاٹا کے ہاتھ میں تھی جسے بعد میں جنگی جرائم کی باداش میں امریکی قابض فوج نے سزاءعمرقید سنائ تھی۔ یہ وہی ہاٹا ہیں جواُس وقت جنرل کے عہدے پر تھے اور جنگ عظیم کے آغاز سے چین میں تقریبا ڈھائ لاکھ مؑصوم لوگون کے قاتل تھے، جنہیں1944 میں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئ ۔ میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ جاپان کے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے کہ اس کے لاکھوں شہری ہلاک ہو گئے اور اسے اقتصادی اور معاشی طور پر بلکل تباہ کر دیا گیا۔ مگر جوں جوں میری تحقیق کا دائرہ وسیع ہوا تو معلوم ہوا کہ جاپان جنگ عظیم دوئم کے آغاز سے بھی پہلے سے چین، فلپائن پر حملوں کے علاوہ بین الاقوامی سمندروں میں بھی بدمعاشی کر رہا تھا۔ 1937 میں جبکہ ابھی جنگ عظیم کا آغاز بھی نہی ہوا تھا اور جاپان کی امریکہ کے ساتھ کسی قسم کی بھی دشمنی نہی تھی جاپان نے چین کے قریب امریکہ کے ایک یو ایس ایس پینے نامی بحری جہاز پر حملہ کر کے اسے ڈبو دیا تھا۔ شہنشاں ہیرو ہیٹو ایک سخت طبیت کا مالک تھا اسی کے زمانے میں 1931 میں جاپان نے چین پر حملہ کر کے اس کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا تھا۔ تاریخ دان فرماتے ہیں کہ امریکہ کو دوسری جنگ عظیم میں ملوث کرنے کا الزام بھی جاپانیوں کے سر پر ہے جب ان کے خود کش پایئلٹس (کامی کازی) نے دسمبر 1941 میں پرل ہاربر پر حملہ کر کہ امریکہ کا بیڑہ نہی بلکہ کئ بیڑے غرق کر دیئے اور محض دو گھنٹوں میں تقریبا تین ہزار کے لگ بھگ فوجی اور سویلیئن مارے گئے، سترہ سو کی قریب زخمی ہوئے 18 شپس جن میں پانچ جنگی بحری جہاز تھے تباہ ہو گئے۔ بحرحال اس جنگ نے لاکھوں نہی بلکہ کروڑوں لوگوں کو صفہ ہستی سے مٹا دیا۔ اس سلسلے میں جاپان نے عالم اقوام سے کئ بار باقائدہ اسٹیٹ کی جانب سے معزرت کی ہے اس مین سب سے پہلے شہنشاں ہیرو ہٹو نے اس وقت کے قابض امریکہ جنرل مکارتھر سے نہ صرف آفیشل معزرت طلب کی بلکہ پرل ہاربر پر بھی معزرت کی جو تایخ کا حصہ بن چکی ہے۔ اسی طرح بہت سے جاپانی وزرءاعظم اور وزیر خارجہ تقریبا 10 سے زائد مرتبہ اپنے اسٹیٹ کی جانب سے معزرت کر چکے ہیں۔
میں 1989 میں جاپان کے شہر ٹوکیو میں رہتا تھا جب شہنشا ہیرو ہیٹو انتقال کر گئے تھے۔ اگر میں غلط پر نہی ہوں تو پاکستانی وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو بھی ان کے جنازے میں شریک تھیں۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میرے دو امریکی دوست ٹوکیو سٹیشن کے نزدیک رہتے تھے۔ اسٹیشن کا نام کیا تھا بھول چکُا ہوں مگر کچھ یادیں ایسی ہیں جن سے ٹوکیو میں رہنے والا پاکستانی شائد جان جائے کہ وہ کونسا اسٹیشن تھا۔ اس اسٹیشن کے نزدیک ایک جانب شاہی محل تھا اور دوسری جانب ٹوکیو ڈوم تھا جہاں مایئک ٹایئسن کا مقابلہ ہوا تھا اور اسی علاقے میں پی آئ اے کا بکنک آفس بھی تھا۔ میں اور میرے امیرکن دوست اپنے چند ایرانی دوستوں سے تعزیت کا اظہار کرنے پہنچے یہ 1990 کی بات ہے ایران میں خوفناک زلزلہ آیا تھا۔ ٹیلیوژن پر ایران کی تباہی کا منظر دیکھ کر میرے ایک دوست نے جو حال ہی میں ہیروشیما کا حال دیکھ کر آیا تھا، ایک ایسا جملہ کہا کہ جو آج تک مجھے یاد ہے۔ اس نے تقریبا آبدیدہ ہو کر کہا کہ ہم اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم امریکن ہیں مگر جب ہم نے ہیروشیما کا حال دیکھا اور اس کے متعلق کہانیاں سنی تو ہمارے سر شرم سے جھک گئے کہ ہم امریکہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ویسے تو ایٹیمی اور جراثیمی ہتھیار اس دنُیا کے امن اور سکون کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں مگر وہیں یہ کسی بھی ملک کی سلامتی کی علامت بھی ہیں۔ انڈیا پاکستان پر کئ بار جنگ مُسلط کر چکا ہے مگر جب سے ہمارا ملک ایٹمی طاقت بنا ہے تب سے اسے سمجھ آ گئ ہے کہ اگر پاکستان کو مٹانے کی کوشش کی تو وہ خود بھی صفہ ہستی سے مٹ جائے گا۔ گو کہ اٰیٹمی ہتھیار والے ممالک کے کلب میں پاکستان کے ایٹمی ہتھیار چھوٹے ہیں مگر وہ بھی ہیروشیما پر مارے جانے والے لٹل بوئے سے بیس گُناہ زیادہ مہلک ہیں۔
مجھے یاد ہیں جب پاکستان نے انڈیا کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 1998 میں دھماکے کئے تھے تو میں ہالینڈ کے ایک سیاسی پناہگزین کے کیمپ میں تھا۔ جہاں پاکستانیوں کی کافی بڑی تعداد تھی جو آج بھی ہالینڈ میں مقیم ہیں۔ ان میں پاکستانی مسیحی، احمدی اور مسلمان بھی تھے۔ جن میں ایگبرٹ الیاس، گلباز فضل، مایئکل تھامس، شہزاد اقبال، چوہدری افتخار، شیخ نیعم، طاہر محمود، عبدل قیوم، فیصل، اور بہت سے دوست اس کیمپ میں تھے۔ اور 675 پناہگینوں کے کیمپ کی ایک ریزڈنٹ کونسل تھی۔ اس کونسل کامجھے دو سال تک چیئرمین چنا گیا تھا۔ پاکستان انڈیا کے دھماکوں کے جواب میں ایٹمی دھماکے کر چکا تھا، اور ڈچ میڈیا بھی تمام دنیا کے میڈیا کی طرح بریکنگ نیوز دے رہا تھا۔ اس کیمپ کے ڈایئرکٹر اور ایڈمینسٹریشن کے لوگ ہال میں لنچ کر رہے تھے۔ ہال کے سامنے ہی میرا دفتر تھا، جس میں ہم سب پاکستانی جشن منا رہے تھے۔ کہ ڈایئرکٹر صاحبہ مسکراتئ ہوئ میرے پاس آئ اور کہا کہ آپ لوگ پاکستان کے دھماکوں پر خوش کیوں ہیں جبکہ آپ پاکستان کے خلاف ہیں۔ جس پر میں نے کافی سخت لہجے میں جواب دیا تھا کہ ہم پاکستان کے خلاف نہی بلکہ سسٹم کے خلاف ہیں اور ہم اپنے وطن پاکستان کی سرخروئ پر ہمیشہ فکر کرتے ہیں۔ اور پھر اسی ڈائرکٹر نے دیکھا کہ اس کیمپ میں 50 سے زائد ممالک کے لوگ تھے۔ مگر اس کیمپ میں اگر کسی ملک کا جشنءآزادی منایا گیا تو 1998 اور 1999 میں صرف اور صرف پاکستان کا جشن ء آزادی منایا گیا۔ اور بہت دھوم دھام سے منایا گیا۔ (اس کی تفصیل پھر کبھی)

Advertisements