قومی اسمبلی نے پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے تشدد کے واقعات کے حقائق جاننے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی ہے جس میں اقلیتوں پر ہونے والے تشدد اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات مرتب کی جائیں گی۔
حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شاہ محمود قریشی نے بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں نقطۂ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل صوبہ سندھ کے شہر عمر کوٹ میں دو ہندو بھائیوں کو قتل کردیا گیا اور اس واقعے کے بعد اُن کے ورثا نے احتجاجی کیمپ لگایا تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ صوبہ سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی کے کہنے پر پولیس نے نہ صرف مظاہرین پر تشدد کیا بلکہ ان ہندوؤں کے قتل میں ملوث افراد کو گرفتار بھی نہیں کیا۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ ایسے واقعات کے سدباب کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے جو اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے جس پر مناسب قانون سازی کی جائے۔
سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی ایاز سومرو اور شازیہ مری کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو جذباتی انداز میں نہیں لینا چاہیے۔ اُنھوں نے کہا کہ پولیس اس معاملے کی چھان بین کر رہی ہے، پہلے پولیس کو اس کی تفتیش مکمل کرلینے دیں تو پھر پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔
عمر کوٹ سے منتخب ہونے والے رکن قومی اسمبلی یوسف تالپور کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی چھان بین کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
اُنھوں نے کہا کہ صرف سندھ میں ہی نہیں بلکہ صوبہ بلوچستان میں بھی ہندو تاجروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جس کی وجہ سے ہندو برادری میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری حکومتِ وقت پر عائد ہوتی ہے اور حکومت اس ضمن میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرے گی۔ اُنھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اس ضمن میں صوبائی حکومتوں سے بھی بات کرے گی۔
قومی اسمبلی میں اقلیتوں پر ہونے والے تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے پارلیمانی کمیٹی بنانے سے متعلق پیش کی گئی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ تاہم اس کمیٹی میں شامل اراکین کے ناموں کو چند روز میں حتمی شکل دی جائے گی۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے بھی کچھ عرصہ قبل اقلیتوں کے مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے حکومت کو خصوصی فورس قائم کرنے کا حکم جاری کر رکھا ہے تاہم اقلیتوں کا کہنا ہے اس ضمن میں حکومت کی طرف سے ابھی تک عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔

Advertisements