واٹسن سلیم گل،
ایمسٹرڈیم،
11اگست 1947 کو دستور ساز اسمبلی میں قائد اعظم محمد علی جناح کی تاریخی تقریر میں جو حقوق اقلیتوں کو دیے گئے ہیں کیا ان پر عمل درآمد ہو رہا ہے؟۔ ہم پاکستانی ہے اس میں کوئ شک کی گنجائش نہی ہے۔ ہم ملک پاکستان سے پیار کرتے ہیں ۔ مگر قائداعظم کے جانے کے بعد اقلیتوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ نہ تو کوئ دہشتگرد کر رہا ہے اور نہ ہی کوئ بیرونی طاقتیں ان سازشوں کے پیچھے ہیں۔ یہ اس لئے لکھ رہا ہوں کہ بہت سے دوست کہتے ہیں کہ یارواٹسن گل صاحب پاکستان میں مسلمان بھی تو مر رہے ہیں؟ ۔ میں یہ کہتا ہوں کہ پاکستان میں ہزاروں مسلمان قتل کئے جارہے ہیں جو کہ انتہائ افسوس اور شرم کی بات ہے، شرم کی بات اس لئے کے یہ مسلمان دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل کئے جا رہے ہیں جبکہ پاکستانی فوجی دُنیا کی بہترین فوج ہے۔ مگر میں یہ کہتا ہوں کہ اقلیتیں بل خصوص مسیحی سوائے چند ایک واقعہ کے اپنے ہی پڑوسی مسلمان بھائیوں کے غیض ؤ غضب کا نشانہ بن رہے ہیں، جس کی مثال شانتی نگر، سمبڑیال، تحسین ٹاؤن، گوجرہ، جوزف کالونی وغیرہ ۔۔۔ یہ واقعات اگر حکومت چاہتی تو ان پر قابو پا سکتی تھی ، مگر نہی۔
1.200
ہم پاکستانی ڈچ کرسچن کمیونٹی نہایت افسوس کے ساتھ اس دن کو سیاہ دن کے طور پر دیکھتے ہیں کیونکہ اس دن ہمارے قائد کی تاریخی تقریر کی لاج نہی رکھی گئ، اور اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے غیر مساوی سلوک پر ہم اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناینگے۔ اس یوم سیاہ میں پاکستانی ڈچ کرسچن کمیونیٹی بڑی تعداد اور لیوینگ اسٹون اُردو چرچ ہالینڈ کی کلیسیا بھی برابر کی شریک ہے۔ میں کمیونٹی کے ایک گروپ کی جانب سے 9 اگست کو ترتیب دیے جانے والے پروگرام میں دعوت دینے پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں پر معزرت چاہتا ہوں کہ شرکت نہی کر سکونگا۔ مگر جناب مورس عنایت کو مبارکباد دونگا کیونکہ وہ ہماری کمیونٹی کے لئے نہایت قیمتی اثاثہ ہیں۔ وجہ ظاہر ہے کہ میں لکھ چکُا ہوں میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں مسیحوں سے امتیازی سلوک اور ظلم پر تو آواز اٹھانی چایئے مگر محض پاکستانی سفیروں کو بلا کر ان کو دکھانا کہ کے ہم پاکستان کے بہت وفادار ہیں، ہمیں کسی سے بھی حب الوطنی کوئ سرٹیفیکٹ نہی چاہے۔ کمیونٹی کو معلوم ہے کہ میں نے دو سال قبل بھی اس طرح کے ایک پروگرام میں شامل ہو کر میزبان کی سخت مخالفت کے باوجود آوازء حق بلند کی تھی۔ ہم تو ہر اتوار کو چرچ میں ملک پاکستان کی سلامتی کے لئے دُعا کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ مگر ہم یورپ اور برطانیہ کے دیگر غیور مسیحوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھینگے جب تک مسیحوں کو برابری کے حقوق عملی طور پر منتقل نہی ہوتے۔
میں خراجءتحسین پیش کرتا ہوں آئ سی سی کو جنہوں نے تقریبا دو ماہ قبل ہی اس دن کو یوم سیاہ قرار دیا تھا اورانٹرنیشل کرسچن کونسل کے جنرل سیکٹری اور معروف ٹی وی اینکر اور مسیحیوں کی ہر دل عزیز شخصیت جناب تسکین خان نے کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے کسی بھی ایسی تقریب یا میٹینگ میں شامل نہی ہونگے جو پاکستانی سفارتخانے کے ساتھ کسی بھی طرح سے منسلک ہو۔
اسی طرح یورپیئن پاکستانیوں کی ہر دل عزیز شخصیت اور اٹلی سے اے پی سی ایل کے راہنما نے بھی اسے یوم سیاہ کے طور پر منانے کا علان کیا ہے ۔
پاکستان کرسچن کانگرس کے بانی ؤصدر، پاکستان کرسچن پوسٹ کے روح روا اور پاکستانی مسیحوں کی جانے مانی شخصیت جناب ناضر بھٹی صاحب نے فرمایا کہ وہ بھی اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر دیکھتے ہیں کیونکہ پاکستان میں مسیحون نمایئندوں کی کوئ حیثیت نہی، کوئ برابری کے حقوق نہی اور نہ ہی وفاق ء پاکستان میں مسیحوں کا کوئ کردار ہے۔ بھٹی صاحب مضید فرماتے ہیں کہ یہ امتیازی قوانین اقلیتوں کے سر پر لٹکتی تلوار ہیں۔
جناب نواز سلامت جو کہ ای پی سی ایل کے صدر ہیں اور یورپ میں پاکستانی مسحیوں کی طاقتور آواز بھی ہیں اس دن کو اقلیتوں کے لئے لولی پاپ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو لوگ اس دن کو مناتے ہیں وہ دراصل اپنے زاتی مفادات کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ نواز صاحب فرماتے ہیں کہ ہم اُس دن 11 اگست کو تب منائیں گے جب مسیحوں کہ برابری کے حقوق دیئے جاینگے۔
میرے پاس پاکستان سے بھی بہت سی ایسی رپورٹس ہیں جو اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر منا رہئے ہیں۔ مگر کچھ کھل کر نہی کہتے اور کچھ کہہ رہئے ہیں مگر زبانی کہہ رہے ہیں۔
میں ان تمام مسیحوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے زاتی مفادات کو چھوڑکر یکجہیتی کی طرف آییں ورنہ وہ دن دور نہی جب ہمیں یورپ سے پناہ کے لیئے کہیں اور بھاگنا پڑے گا۔

Advertisements