378127_170764039758065_1072002289_nہم غیر مسیحی میڈیا (روزنامہ جنگ، روزنامہ دستک اور دیگر ) میں آیئزک سیمسن کی کی دو سالہ گمشدگی کے حوالے سے آواز بلُند کرنے میں کامیاب رہے، مگر اپنے مسیحی میڈیا میں آیئزک سیمسن کی آواز کو جگہ دلوانے میں ناکام رہے۔ مجھے آیئزک سیمسن کے والد سے نہ صرف ہمدردی ہے بلکہ شرمندگی بھی ہے کہ میں نے اپنے ایک بھائ کے کہنے پر اپنے مسیحی میڈیا سے رابطہ کیا اور درخواست کی کہ آپ صرف آیئزک سیمسن کے لئے آن لایئن پٹیشن پر دستخط کے لئے کمیونٹی سے درخواست کرٰیں۔ صرف ایک جملہ جس پر آپ کے صرف 16 سیکنڈ خرچ ہوتے شاید ہمیں بہت سے دستخط مل جاتے۔ جملہ یہ تھا۔

(ہم آپ سب سے درخواست کرتے ہیں کہ آیزک سیمسن ایک مسیحی نوجوان کو دو سال قبل کراچی سے اغوا ہوگیا تھا  اس کی بازیابی کے لئے ایک آن لایئن پٹیشن جو کہ سوشل میڈیا پر ہے آپ کا ایک دستخط شاید اس کی بازیابی میں کوئ مدد کر سکے)

 

ہمارے مسیحی میڈیا پر میرے بھائ نے نہ صرف مجھے یقین دلایا بلکہ مجھے کہا کہ میں جناب یونس صادق صاحب سے رابطہ کر کے ان کو آگاہ کروں کہ وہ اپنے پروگرام میں ان کو لیں گے اور ظاہر ہے کہ ایک باپ اگر کمیونٹی سے دستخط کی اپیل کرے گا تو شاید پٹیشن میں کچھ تیزی آ جائے۔ مگر وہ باپ ساری رات انتظار کرتا رہا۔ مجھے کہا گیا کہ چونکہ سیدہ وارثی کے استعفے کے متلق پروگرام ہے اس لیئے اگلے ہفتے کو وہ ضرور اس باپ کی فریاد سُنے گے۔ میں نے پھر بھائ یونس کو تسلی دی مگر دوسرا ہفتہ کو بھی کسی قسم کا کوئ اشارہ نہی کیا گیا۔ میں اس باپ سے سوائے تسلی کے کچھ نہی کہہ پایا۔ میں ابھی بھی اپنے میڈیا والے بھائ سے ناراض نہی ہوں کیونکہ میری نظر میں یورپ اور برطانیہ کے جو 15 سے 20 پاکستانی مسیحی انقلابی سوچ کے حامل ہیں جن کو میں کامریڈ کہتا ہوں ان میں میرے بھائ کا نام کافی اوپر کے نمبروں پر ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ ان کی کوئ مجبوری ہو گی۔ مگر میرا یہ سب کچھ لکھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم ان پر کتنا انحصار کر سکتے ہیں۔

 

آیئزک سیمسن کے والد جناب یونس صادق میرے ساتھ رابطے میں ہیں۔ وہ بچارے مجھ جیسے تنکے کو بھی سہارہ سمجھتے ہیں۔ میں بھی ان کی امید کو توڑنا نہی چاہتا۔ میں نے ان سے کہا کہ کوشش کرتے ہیں۔ اور میں نے پاکستانی ڈچ کرسچن کمیونٹی کے ممبرز  اور لیوینگ اسٹون اردو چرچ ہالینڈ کے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک پٹیشن کو پلان کیا یہ پٹیشن جناب  پرویز اقبال صاحب نے تیار کی اور اس پٹیشن میں آپ جناب پرویز اقبال صاحب کے قلم کی مہارت بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ہم نے یہ پٹیشن اپ لوڈ کر دی اور جلد ہی ہم ایک وفد کی صورت میں ہالینڈ میں موجود پاکستانی سفیر سے ملاقات کر کہ یہ پٹیشن حوالے کرینگے بلکہ درخواست کرینگے کہ آیئزک سیمسن کی بازیابی کے لیئے کوشش تیز کی جائے۔ میں آپ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ اس پٹیشن پر زیادہ سے زیادہ دستخط کریں۔ ہم تمام دستخطوں کی پوری لسٹ تو نہی بلکہ اپنی لیڈر شپ کے دستخطوں کی لسٹ مشورے کے بعد منظر عام پر لاینگے

Advertisements