واٹسن گل،

ایمسٹرڈیم، 18 اگست 2014

ہم پاکستانی مسیحی ایک قوم ہیں بھی، یا پھر منافقوں اور کا ایک بہت بڑا گروہ ہیں؟؟؟ ۔ میں نے لفظ ہم استمال کیا ہے جس میں میں بھی شامل ہوں۔ یا شاید ہم واقعی ایک قوم ہیں اور میرا تجزیہ غلط ہے۔ خدا کرے کہ میری عقل پر وٹے پڑے ہوں یا میری مت ماری گئ ہو، لیکن ایسا نہی ہے۔ میں تو حالات اور واقعات کا جائزہ لیکر کہہ رہا ہوں کہ ہم نہ صرف منافق ہیں بلکہ بے حس قوم ہیں۔

10482920_313327425501725_3192285970463101473_n

ایک مسیحی نوجوان آیئزک سیمسن جو کہ دو سال قبل اغواہ کر لیا گیا۔ اس کی آج تک کوئ خبر نہی۔ پاکستانی کہ تمام بڑے اخبارات اور ٹی وی چینلز نے اس خبر کو رپورٹ بھی کیا۔ مگر حکومتی اداروں کی جانب سے کوئ پیش رفت نہی ہوئ۔ اس نوجوان کے والد جناب یونس صادق جو کہ آج بھی روز کراچی پولیس کے افسران کو ایس ایم ایس کر کے یاد دلاتے ہیں کہ میرے بیٹے کے لیئے کچھ کرو۔ جناب یونس صادق صاحب کے بھولے پن کا اندازہ اس بات سے لگایں کہ انہوں نے مجھ جیسے بندے کو بھی ایک اپیل لکھ کر بیجھی کہ ہم ان کے بیٹے کی بازیابی کے لئے کوئ کردار ادا کریں۔ یہ ان کا سادہ پن تھا کہ مجھ جیسے ایک فضول شخص کو اپیل کر رہے تھے کہ جس کا کام ہے صرف یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بکواس لکھ کر سمجھتا ہے کہ شاید کمیونٹی کی کوئ خدمت کر رہا ہے۔ پہلے میں نے بھی سوچا کہ پتلی گلی پکڑ کر نکل لوں۔ پھر سوچا کہ کوئ ایسا کام کیا جایے کہ سانپ بھی مر جایے اور لاٹھی کو بھی بچایا جاسکے۔ خدا کا شکر ہے کہ میرے ساتھ ایک اچھی ٹیم ہے ان سے مشورہ کیا اور ایک آن لائن پٹیشن کا اجرا کیا۔

 کچھ احساس تو مجھے پہلے سے تھا مگر آہستہ آہستہ میرا نظریہ اور پکا ہو گیا کہ میں تو اپنے آپ کو منافق سمجھتا تھا ،،،،، ارے بھائ میری کمیونٹی میں تو میں بہت چھوٹا منافق ہوں یہ مجھے بعد میں پتا چلا۔ اور ہماری کمیونٹی میں تو منافقوں کی پی ایچ ڈی والے بھرے پڑے ہیں  

آٹھ اگست کو ہم نے یہ پٹیشن آن کی اور آج اٹھارہ اگست یعنی 10 دنوں میں 120 دستخط؟؟؟؟؟ جبکہ اسی دن میں نے اپنی مرحوم ماہ کی سلگرہ کے موقع پر انکی ایک تصویر بھی پوسٹ کی جسے تین دنوں میں 150 سے زاید لایک ملے۔ میں نے اپنی پروفائل پکچر تبدیل کی تو ایک ہی رات میں 140 لائق مگر آیئزک سیمسن کی پٹیشن پر دستخط کا وقت نہی ہم منافقوں کے پاس؟؟؟؟

اس دوران میں دیکھتا ہوں کہ عراق کے مسیحوں کے حوالوں سے کوئ پوسٹ یا ڈیبٹ چل رہی ہے تو اپنی کمیونٹی کے لوگوں کی بھڑکیں دیکھ کر مسکراتا رہا۔ کوئ کہتا ہے کہ ہمیں عراق میں ظلم کا شکار مسیحوں کے لیئے آواز بلند کرنی چایے تو کوئ فنڈز ااکھٹا کرنے کی تجویز دے رہا ہے۔ اور کچھ نے تو ہتھیار تک اٹھانے کی ترغیب دینی شروع کر دی۔ سوشل میڈیا پر ہمارے مسیحی نام نہاد تجزیہ کار لانگ مارچ، انقلاب مارچ، پاکستانی سیاست، عراقی مسیحیوں کے حالات اور غزہ میں جنگ کے حوالے سے ایسے ایسے کومنٹ پڑھے کہ مجھے ارسظو اور سقراط بھول گیے ۔ ایک نورمل اسپیڈ کے کمپوٹر پر آیئز سیمسن کی آواز کو اعلی حکام تک پہنچانے کے لئے 35 سیکنڈ خرچ نہی کر سکتے۔ ایک نورمل اسپیڈ کے کمپوٹر پر محض 35 سیکنڈ ایک دستخط ہوتا ہے۔ مگر ہمارے مفکروں کے پاس سب سے آسان کام کے لئے جزبہ نہی ہے وہ عراق کے مسیحوں کا بھی سودہ کر جاینگے۔  

یونس صادق صاحب ہر روز میرے ٹائم لائن پر اپنے بیٹے کے حوالے سے کسی نہ کسی میڈیا کی رپورٹ کو شیئر کرتے ہیں۔ اور میں اسے دیکھ کر شرمندہ ہوتا ہوں کہ ہمیں کم از کم کوشش تو کرنی چاہیئے۔ مگر پھر میں یہ سوچتا ہوں کہ ہم اپنے طور پر تو کوشش کر رہیے ہیں، جنگ اخبار سمیت مختلف فورم پر اسے اٹھا رہے ہیں۔ تو میں کیوں شرمندہ ہوں ؟؟؟؟۔ کیا مین نے ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ بس جتنا کر سکتا تھا کیا ہے ۔ یہ میری منافق سوچ میری شرمندگی پر غالب آ جاتی ہے اور میں آینیہ میں اپنا چہرہ دیکھ کر بجائے شرمندہ ہونے کہ  اپنے روٹین کے کاموں میں مصروف ہو جاتا ہوں۔    

Advertisements