اِنسانیت سوز مظالم


آئی ایس آئی ایس ( داعش )  کے ہاتھوں عراقی مسیحیوں کا مُوصل اور قراشِش میں  قتلِ عام ایک بہت بڑا سوالیہ نشان رکھتا ہے ـ
یہ نشان دُنیا کیلئے بالعمُوم اور دُنیائے اِسلام کیلئے بالخصُوص ایک ندامت کی سی کیفیت بنا ہُوا ہے  ـ کیونکہ پیغمبرِ اِسلامؐ نے اُن باتوں سے منع فرمایا جِن سے مسیحی نا خُوش ہوں ـ اُن کی بتائی ہُوئی باتیں ہمیں ذرا ذرا یاد ہیں ـ ہمیں تو وہ حدیث بھی ہر وقت یاد رہتی ہے کہ ایک اِنسان کا قتل پُوری اِنسانیت کا قتل ہے ـ اور ’’ پھِر اسلام تو امن کا دین ہے ،، یہ باتیں اِن خُون ریزوں کو اور غارت گروں کو کیوں سمجھ نہیں آتیں جِن کی وجہ سے اسلام کا ایک منفی پیغام لوگوں کو جاتا ہے ـ
اسلام میں ٹیرر اِزم کی کوئی گنجائش نہیں اور نہ ہی مذہبی اقلیتوں سے اِس طرح کے ناروا برتاؤ کی اجازت دیتا ہے ـ بلکہ اُن کے جان و مال اور عبادت گاہوں کو تحفظ دیتا ہے ـ پیغمبرِ اسلامؐ کے حُسنِ سلُوک کو کون بھُول سکتا ہے ـ اُنھوں نے اپنے اوُپر کچرا پھنکنے والی بُڑھیا کی بھی عیادت کی ـ نصارا کے وفد کو مسجدِ نبوی میں ٹھہرایا اور اُن کامعاہدہ آج بھی سینٹ کیتھرین چرچ سینائی مِصر میں موجُود ہے جو چھ سو اٹھائیس میں اُنھوں نے ایتھوپیا کے مسیحیوں کو لِکھ کر کیا ـ اِس معاہدے میں اُنھوںؐ نے یہ کہا کہ مسیحیوں کی حِفاظت مُسلمانوں کے ذِمے ہوگی ـ تو کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ عراق میں عورتوں کے ساتھ زیادتی کر کے اُنھیں بے لباس حالت میں گلے کاٹ کر  بے حُرمتی سے پھیکنا ـ بچوں سمیت مسیحیوں کو زبردستی اِسلام قبُول کرے پر مجبُور کرنا اور اِنکار پر اُنکا قتلِ عام کرنا  اِن قاتلوں کا اِسلامی تعلیمات سے نابلد ہونے کی دلیل ہے یا پھر جان بُوجھ کر پیغمبرِ اِسلامؐ سے رُوگردانی کے مُرتکِب ہیں یہ لوگ ـ
غزہ میں بھی عورتوں اور بچوں کا قتلِ عام ہُوا اور اِس پر بھی اِسلا می مُمالک کی طرف سے کوئی ردِ عمل نا ہونے کے برابر تھا اور مذمت نام کی تو کوئی چیِز ہُوئی ہی نہیں ـ اقوامِ مُتحِدہ ، اِسلامی مُمالک ، امریکہ اور یورپی مُمالک کو فوری کوئی قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے ـ اِنسانیت پیروں تلے روندی جا رہی ہے ـ غزہ میں تو قتلِ عام مسلکی بُنیادوں پر بھی اِسلامی مُلکوں کیلئے کوئی توجہ اور اہمِیت سے عاری رہا اور عراقی مسیحیوں کا قتلِ عام بھی اِس بِنا پر کہ مسیحی ہی تو ہیں ـ لیکن اِنسانیت کی چیخیں ابھی تک اپنے کانوں سے دُور رکھے ہُوئےہیں ـ
امریکہ یورپ اور باقی ماندہ دُنیا کو بھی یقیناً اِن اِنسانیت سوز مظالم سے فوری نبرد آزما ہونے کی ضرُورت ہے ـ جیسے کہ آئی ایس آئی ایس ( داعش ) کے عزائم سے سب واقف ہیں اور سب جانتے ہیں کہ وہ دُنیا کو  قبضہ کر کے خلافت کو قائم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں ـ خانۂ کعبہ پر قبضہ کر کے اِسے مِسمار کرنے کی خواہش کا بھی اِظہار کر چُکے ہیں ـ ایسے لوگوں کو روکنے کیلئے اِقدامات کرنا اہم ترین ہے ـ آج اگر مسیحی خواتین کی عِزتیں لُوٹی جا رہی ہیں اور اُنھیں بے حُرمت کیا جا رہا تو خُدا ناکرے کہ یہ لوگ دُنیا کے دِیگر مُمالک اور خصُوصاً اِسلامی مُمالک جو اُنھیں قریب ہیں اور اُنکی دسترس میں ہیں اُنکی خواتین کی ایسی ہی بے حُرمتی ہو ـ
سُنتِ رسُولؐ پر چل کر اور عمل پیرا ہو کر جو حُسنِ ظن اُنھوں نے کیا اُسی کو آگے بڑھانے کی ضرُورت ہے  کہ مسیحیوں کی حِفاظت مُسلمانوں کے ذِمے ہوگی ـ اگر ایسا نہیں تو دُنیا یہ سمجھنے پر مجبُور ہوگی کہ یہ تنظیِم اِسلام سے بہت دُور ہے اور اِسے خارجی اور تکفیری تنظِیم کہا جا سکتا ہے اور خارج اور تکفیری لوگوں کا خاتمہ مُسلمانوں فرضِ اولین بنتا ہے کیونکہ اِس سے اِسلام کو شدِید خطرہ پہنچ سکتا ہے ـ

سیمسن طارق
موڈیسٹوکیلفورنیا

Advertisements