مَیں اِنسانیت کو سپورٹ کرتا ہُوں
پِچھلے کئی  دِنوں سے پاکِستان میں ، عراق میں ، غزہ میں اور دُنیا کے کُچھ دیگر حِصوں میں اِنسانیت کے جو پرخچے اُدھیڑے جا رہے ہیں نہایت افسوس ناک اور دِل سوز  ہیں ـ دُنیا جانتی ہے کہ وجُوہات چاہے کُچھ بھی رہی ہوں عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنانا ـ عورتوں سے جِنسی زیادتی کرنا ـ بے حُرمت کر کے بے لباس کرکے ـ گلے کاٹ کر اِنکی لاشیں پھینکنا یہ کِسی بھی صُورت میں قابلِ استحصان نہیں ـ

مَیں ڈاکٹر طاہر  اُلقادری یا عِمران خان کا سپورٹر بھی نہیں اور نواز شریف کو بھی پسند نہیں کرتا ـ مَیں یہاں نواز شریف دور میں مسیحیوں کے ساتھ ظُلم اور بربریت کے تین واقعات کا ذِکر کروں گاـ شانتی نگر کا، گوجرہ کا اور بادامی باغ کا ـ اِن جگہوں پر مسیحی مُقدس کتابوں ، چرچوں ، اداروں اور گھروںکو جلایا گیا ـ اِنسانی جانیں بھی ضائع ہُوئیں ـ اِن تِینوں میں مسیحیوں کے ساتھ کوئی دُکھ کا مداوا  کبھی بھی دونوں شریف برادران نے کبھی نہیں کیا ـ توہین  کے قوانیِن بنوانے کے ڈاکٹر طاہر اُلقادری کے دعوے کی وجہ سے مسیحی اِن سے بھی ناخُوش ہیں اور طالبان سے کھُلی ہمدردی اور لگاؤ کی وجہ سے عِمران خان بھی مسیحیوں کی کوئی ہمدردی نہیں رکھتے کیوں کہ طالبان کے پشاور چرچ کو نشانہ بنانے اور اِس میں بے گناہ اور معصُوم مسیحیوں کی جانیں تلف ہونے اور بہت سے زخمیوں کی وجہ ہے یہ ـ

پاکستان کی موجُودہ صُورتِ حال کو دیکھتے ہُوئےاکثریت اب افواجِ پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے کہ شائد کوئی وہی حل نکالے ـ  اور یہ بھی ضرُوری نہیں کہ ماشل لأ کی صوُرت ہو ـ بس ضرُور ت ہے کہ اِنسانی حقُوق کی پاسداری ہو ـ کیونکہ  ’’ مَیں اِنسانیت کو سپورٹ کرتا ہُوں ‘‘ اور میرا اِیمان ہے کہ آپ بھی  اِنسانیت کو سپورٹ کرتے ہوں گے ـ

مُفادات کی جنگ میں گذشتہ ایام میں کئی ضمیِر فروشوں کے چہرے نظر سے گُزرے ـ سوشل مِیڈیا پر ایک لِسٹ بھی دیکھنے کو مِلتی رہی جِس میں کُچھ نامور لوگوں کے نام تھے اور جِن کے بارے میں سُننے کو مِلتا رہا کہ چند دِنوں میں ہی کروڑ پتی ہُوئے ہیں جِن کا تعلق پرِنٹ میڈیااور مُختلف چینلز پر شوز کرنے والے اینکرز اور ٹاک شوز پر اپنی ماہرانہ رائے دینے والوں سے بتائی گئی ـ کُچھ کے تیور بدلتے دیکھ کر اور اُنھیں غُصے میں مُنہ سے جھاگ اُڑاتے دیکھ کر بخُوبی معلُوم ہُوا ـ یہ بھی اندازہ ہُوا کہ ماڈل ٹاؤن میں بہیمانہ گولیوں کا نشانہ بننے والوں کی زِندگیاں اِن کے لیئے کوئی اہیمیت نہیں رکھتیں ـ اور اب اِسلام آباد میں آزادی اور اِنقلاب مارچ اور دھرنا دینے والوں کے ساتھ حکُومتی سلُوک جو کہ تشددکی صُورت میں ہو رہا ہے ـ بچوں اور عورتوں کا پانی بند تو کبھی اُنکی کھانے پینے کی اشیاء کی رسد بند کرنا ـ اُن پر آنسوُ گیس کے گولوں کی بارش کرنا اور وہ بھی ایکسپائری ڈیٹ کے ـ ربڑ کی گولیوں کے ساتھ ساتھ دُوسرے ہتھیاروں سے فائرنگ کرنا اور مزید ہلاکتوں کا موجب بننا ـ کُچھ نظر نہیں آتا ایسے جیبیں بھرنے والوں کو ـ

انجِیلِ مُقدس میں لِکھا ہے  ’’ کہ تُم ابلیس کی خواہشوں کو پُورا کرتے ہو ـ وہ شُروع سے ہی خُونی ہے اور سچائی پر قائم نہیں کیونکہ اُس میں سچائی ہے ہی نہیں ـ جب وہ جھُوٹ بولتا ہے تو اپنی ہی سی کہتا ہے کیونکہ وہ جھُوٹا ہے ‘‘ ـ شیطان دِلوں میں  یہ بات ڈال دیتا ہے کہ اِنسان جھُوٹ بولیں ـ وہ ہر  طرح کے دھوکے اور دغا بازی سے کام لیں گے اور سچائی کوکبھی اِختیار نہ کریں گے ـ
جھُوٹ منع ہے ـ خرُوج کی کتاب (توریت) میں لِکھا ہے ، ’’ تُو جھُوٹی بات نہ پھیلانا اور ناراست گواہ ہونے کے لیئے شریروں کا ساتھ نہ دینا ‘‘ـ
جھُوٹے مُعاملہ سے دُور رہنا اور بے گُناہوں اور صادقوں کو قتل نہ کرنا کیونکہ مَیں شریروں کو راست نہیں ٹھہراؤں گا ـ

تُم چوری نہ کرنا اور نہ دغا دینا اور نہ ایک دوُسرے سے جھُوٹ بولنا ـ نہ جھُوٹی قسم کھانا ـ جھُوٹ بولنا چھوڑکر ہر ایک شخص سے اور  اپنے پڑوسی سے سچ بولنا کیونکہ تُم آپس میں ایک دوُسرےکے عُضو ہو ـ اگر تُم اپنے دِل میں سخت ، حسد اور تفرقے رکھتے ہو تو حق کے خلاف نہ شیخی مارنا اور نہ ہی کبھی جھُوٹ اور دروغ گوئی سے کام لینا ـ بُرے منصُوبے نہ باندھنا ـ جھُوٹی باتوں سے مسکین اور مُحتاج کو جب کہ وہ حق بیان کرتا ہو ہلاک نہ کرنا ـ

ہم اِنسان ہوتے ہُوئے ایسی باتوں کی کب پرواہ کرتے ہیں ـ کروڑوں دُنیا میں ہی رہ جانےہیں ـ اِنسان خالی ہاتھ اِس دُنیا میں آیا ہے اور خالی ہاتھ جائے گا ـ یُوں ہمیں اِنسانیت کو پہن لینے کی ضرُورت ہے ـ پُرانی اِنسانیت کو چھوڑ کر نئی اِنسانیت کو  تاکہ ہم یہ کہنے والے بن سکیں ، ’’ مَیں اِنسانیت کو سپورٹ کرتا ہُوں ‘‘ ـ
سیمسن طارق
موڈیسٹو کیلیفورنیا
Advertisements