واٹسن سلیم گل،

ایمسٹرڈیم

6سپتمبر 2014 یوم دفاع

 14 اگست کا دن جو کہ ہماری آزادی کا دن تھا اور کسی بھی ملک کی آزادی کا دن اس ملک کا سب سے بڑا دن مانا جاتا ہے مگر بدقسمتی سے ہم نے 2014 کا جشن آزادی انتشار کی حالت میں منایا۔ پاکستانی قوم کی جشن آزادی کے حوالے سے کی گئ تیاریاں دھری کی دھری رہ گئ، اور عوام آزادی مارچ اور انقلابی مارچ کے گورکھ دھندے میں پنس کر رہ گئے۔ اب جیسے جیسے یوم دفاع نزدیک آ رہا ہے۔ مجھے کہیں کوئ تیاری، کہیں کوئ جوش ولولہ نظر نہی آ رہا۔ قوم میں ایک بے چینی اور بے یقینی کی کیفیت ہے۔ 

Defence-Day-of-pakistan  

زندہ قومیں اپنی نئ نسلوں کو اپنے وطن کی آزادی اور دفاع کے قصے سنا کر اپنی تاریخ کو نئ نسل میں منتقل کرتیں ہیں۔ ہم بھی اپنے اسکولوں میں ان ایام میں مختلف پروگرام کیا کرتے تھے، قومی نغمے اور قومی لباس سے پوری قوم کے جزبے جواں ہوتے تھے۔ مگر آہستہ آہستہ ان میں کمی واقع ہو رہی ہے یا شاید ہم بیرون ملک پاکستانی اب زیادہ مصروف ہو گئے ہیں۔ میں اس بار بھی یوم آزادی کی پریڈ اور اپنی فوج کے متلق اپنے بچونکوں بتا رہا تھا۔ میرے بچے مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ پاپا یہ ایف 16 اور مہراج طیاروں کی پریڈ کے شُرکا ءکو سلامی اور کرتب رات کے وقت کیوں ہو رہی ہے۔ میں ان کو بہلانے کے لئے بتا رہا تھا کہ ظاہر ہے آتش بازی رات کے وقت زیادہ خوبصورت اور نمایا ہوتی ہے اس لئے ان تقریبات کو رات کے وقت مخصوص کیا گیا ہے۔ اب میں ان کو کیا بتاتا کہ صبع ہمارے دارلحکومت میں آزادی مارچ اور انقلاب مارچ براجمان ہونگے۔

بات ہو رہی تھی یوم دفاع کی جو کہ ہمارے لئے کسی بھی طرح سے جشن ازادی سے کم حثیت نہی رکھتا کیونکہ خدانہ خواستہ اگر 6 سپتمبر کو ہماری بہادر افواج انڈیا کے دانت نہ توڑتے تو ہم آزادی کے معنی بھی کھو دیتے اور  جشن آزدی نہی منا سکتے تھے۔

6 سپتمبر 1965 کو صبح  تقریبا چار بجے کے درمیان بھارت نے پاکستان کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا اور بہ یک وقت تین محازوں لاہور واگہ سیکٹر، سیالکوٹ جمو سیکٹر ، کھیم کرن سیکٹر ، راجھستان سیکٹر اور قصور سیکٹر پر حملہ کر دیا۔ بھارتی جنگی جہازوں نے وزیر آباد اسٹیشن پر کھڑی ایک پسنجر ٹرین کو بھی نشانہ بنایا۔ سیالکوٹ سیکٹر پر ٹینکوں کی یہ جنگ دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کی سب سے بڑی جنگ تھی۔ یہ جنگ شروع تو پاکستان کی سرزمین پر ہوئ مگر پاکستانی افواج اسے دھکیل کر بھارت کی سر زمین پر لے گئے۔جو کہ پاکستانی فوج کی بہادری ، جوانمدری اور بہتر حکمت عملی کی ایک ناقابل فراموش مثال ہے۔   پاکستان کے جانباز سپاہوں نے اپنے سے تین گناہ زیادہ فوج کے نہ صرف حملے پسپا کیئے بلکہ ان کو پیچھے دھکیلنے میں کامیاب بھی رہے۔ یونہہ تو ہماری فوج نے مجموعی طور پر انتہائ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا مگر پھر بھی اس جنگ میں اپنی انفرادی حیثیت میں میجر عزیز بھٹی نے جو کارنامہ انجام دیا وہ ہماری تاریخ کا ایک سنہرا باب بن گیا۔ میجر عزیز بھٹی جو کہ اس وقت لاہور سیکٹر 6 میں برکی کے علاقے میں ایک کمپنی کی کمان کر رہے تھے۔ اس کمپنی کی دو پلاٹون بی آر بی نہر کی حفاظت پر مامور تھیں۔ بھارتی فوج کے لئے ان مورچوں پر قبضہ کرنا بہت ضروری تھا۔ اور اس علاقے میں اس کے حملے شدید تھے۔ میجر عزیز بھٹی اپنی ایک پلاٹون کے ساتھ ان مورچوں کی حفاظت کے لئے آگے بڑھ رہے تھے۔ مگر نہر کی دوسری جانب ان کا مقابلہ بھارت کی ایک بٹالین کے ساتھ تھا جو 10 سپتمبر کی آدھی رات کو ان مورچوں پر قابض ہو چکی تھی۔ میجر عزیز بھٹی  نے انتہائ سنگین حالات میں اپنی کمپنی کو متحد کیا دشمن کی کمک کو روک کر دوسری جانب سے ان پر حملہ کیا اور اپنے علاقے کو دُشمن کے قبضے سے چھڑا لیا مگر اس محاز پر انہوں نے اپنی جان وطن عزیز پر قربان کر کے نا صرف شہادت کا رتبہ پایا بلکہ پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز نشانء حیدر بھی حاصل کیا۔ میجر عزیز بھٹی نشان حیدر حاصل کرنے والے تیسرے اور 1965 کی جنگ کے واحد حقدار ٹھرے۔ یہاں سپاہی مقبول حُسین  کا زکر نہ کرنا زیادتی ہو گی۔ سپاہی مقبول حسین جو 1965 میں جنگی قیدی بنا اور جنگ کے خاتمے پر قیدیوں کے تبادلے میں فراموش ہو گیا۔ ہم سمجھے کہ وہ شہید ہو گیا مگر وہ بھارت میں قید رہا اور 2005 میں رہا ہوا۔ جسے شہید سمجھ کر ہم بھول گئے، وہ زندہ تھا اور 40 سال تک بھارت میں قید و بند کی صوبتیں برداشت کرتا رہا۔  جس پر تشدد کر کے اسکی زبان زایع کر دی گئ ۔40 سال بعد بھارت کی قید سے آزاد ہونے والے چند قیدیوں میں یہ بہادر سپاہی بھی تھا۔ جس نے اپنی کمپنی میں حاضر ہو کر اپنا تعارف اور بیچ نمبر بتا کر کہ میں زندہ ہوں سب کو حیران کر دیا تھا۔

 اس جنگ میں بھارت کو بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا۔ تقریبا 17 سو مربع میل کا علاقے پر پاکستان نے قبضہ کر لیا۔ 135 ہوائ جہاز تباہ ہوئے۔ 23 سپتمبر تک جاری رہنے والی یہ جنگ جو کہ سترہ روز تک جاری رہی،  اس جنگ میں بھارتی فضایہ، بری اور بحری فوج کو ہر محاز پر شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس جنگ کے خاتمے کے لئے اقوام عالم نے بہت کوششیں کیں۔ جن میں سعودی عرب کے شاہ فیصل، عراق کے عبدل سلام عارف، ایران کے امیر عباس ہویدا ،ترکی کے سوات ہیری اورگپلو نے اہم کردار ادا کیا۔  امریکہ اور سویت یونین کی خاموشی کو دیکھ کر چین نے پاکستان کو فوجی مدد کی پیشکش کی جسے دیکھ کر امریکہ نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔

 بین لاقوامی دباؤ اور اقوام متحدہ کے طاقتور کردار نے اس جنگ کو روکنے میں کردار ادا کیا اور 23 سپتمبر 1965 کو دونوں مملک کے درمیان سیز فائر ہو گیا۔ اور ایک امن مہایدہ تشکیل پایا ۔ اس حوالے سے 4 جنوری 1966 کو سویت یونین  تاشقند (موجودہ ازبکستان کا شہر) میں ایک مہائدے پر دستخط ہوئے۔ جس میں صدر ایوب خان، انڈیا کے وزیراعظم لال بہادر شاستری سویت یونین کے صدر ایلیکسی کوسیجن کے علاوہ امریکہ اور دیگر ممالک کے مندوبین نے بھی شرکت کی۔ اس پانچ نکاتی  ایگریمنٹ کے تحت دونوں ممالک کے جنگی قیدیوں کی واپسی اور مقبوضہ علاقوں کی واپسی اگست 1964 میں جو علاقے جس کے پاس وہ واپس کئے جایں۔ دونوں ممالک اپنی اپنی فوجیں 25 فروری 1964 کی پوزیشنز پر واپس لایں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے داخلی امور میں مداخلت نہی کرینگے اور آپس میں سفارتی روابط میں بہتری لاینگے۔  

Advertisements