پنجاب پولیس کے ایک اہلکار نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سزائے موت کے پاکستانی نژاد برطانوی مجرم کو گولیاں مار کر زخمی کر دیا۔

مقامی پولیس کے مطابق زخمی مجرم راجہ اصغر علی کو راولپنڈی کی ایک عدالت نے توہین مذہب کے مقدمے میں موت کی سزا سنائی تھی۔

تھانہ صدر بیرونی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق اصغر علی جیل میں اپنی بیرک میں موجود تھے کہ جیل کی ایلیٹ فورس کے اہلکار ملزم یوسف نے وہاں جا کر ان پر فائرنگ کر دی۔

اہلکار کے مطابق فائرنگ کی آواز سن کر سکیورٹی پر تعینات دیگر اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچے اور ملزم پر قابو پا لیا اور اس سے اسلحہ بھی برآمد کر لیا۔

راجہ اصغر کو زخمی حالت میں جیل ہی کے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اُس کی حالت خطرے سے باہر بیان کی جاتی ہے۔

جیل کی انتظامیہ کے مطابق ملزم یوسف ایلیٹ فورس کے اُن اہلکاروں میں شامل ہیں جنھیں جیل کے اندر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔

ادھر مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ اُنھیں اس بارے میں جیل کی انتظامیہ نے کوئی اطلاع نہیں دی تھی کہ ایلیٹ فورس کے کتنے اہلکاروں کو جیل کے اندر حفاظتی نقطۂ نظر سے تعینات کیا گیا ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق راجہ اصغر کو راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت نے توہین مذہب کے ایک مقدمے میں موت کی سزا سُنائی تھی تاہم مجرم نے اس عدالتی فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

یاد رہے کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قتل میں موت کی سزا پانے والے پنجاب پولیس کے اہلکار ممتاز قادری بھی اڈیالہ جیل میں ہی قید ہیں۔

سلمان تاثیر کو تین سال قبل اُن کی سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکار نے اسلام آباد میں اس وقت گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب وہ وقوعہ سے چند روز پہلے شیخوپورہ جیل میں توہینِ مذہب میں موت کی سزا پانے والی عیسائی خاتون آسیہ بی بی سے ملاقات کر کے آئے تھے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مجرم ممتاز قادری کی موت کی سزا پر عمل درآمد روک دیا ہے جس کی بعد وفاقی حکومت کی طرف سے عدالت عالیہ کے اس حکم نامے کے خلاف ابھی تک کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی۔

یاد رہے کہ اس سال مئی میں توہینِ مذہب کے مقدمے کی پیروی کرنے والے وکیل راشد رحمان کو بھی جنوبی پنجاب کے شہر ملتان میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے کے ملزمان ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے۔

Advertisements