پاکستانی  کرسچن مہاجرین کی جانب سے بلائ جانے والی ڈچ کمیونٹی میٹینگ انتہائ کامیاب رہی۔

ہالینڈ میں مقیم پاکستانی مسیحی سیاسی پناہ گزین انتہائ مشکلات کا شکار ہیں۔ بہت سے بہن بھایوں کی اسائلم کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔ جن میں سے کچھ کو ڈیپورٹینگ سینٹر میں بھیج رہئے ہیں اور کچھ کو جیلوں میں قیدوں کی زندگی گزارنی پڑ رہی ہے۔ ان میں کچھ بے سرو سامانی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ جنکے سر پر نا تو چھت ہے اور نہ ہی کھانے کو ملتا ہے اور یہ چرچز اور دوستوں کے سہارے انتہائ مخدوش زندگی گزار رہے ہیں۔

Meeting on 27 Sep 2014 for Asylum seekers 3Meeting on 27 Sep 2014 for Asylum seekers 4

ان ہی کی درخواست پر پاکسانی ڈچ کرسچن کمیونٹی کی ایک میٹینگ روٹرڈیم میں بلائ گئ ۔اس میٹینگ میں پاکستانی مسیحی کمیونٹی کے لوگوں نے شرکت کی اور اپنے پریشان حال بہن بھایوں کو یقین دلایا کہ وہ ان کے ساتھ ہونے والے غیر منصفانہ سلوک پر احتجاج کرتے ہیں اور آخری وقت تک ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ میٹینگ میں میزبان مسٹر عمنیوئل مسیح، پاسٹر ندیم دین، پاسٹر سنی اقبال، فراز اعجاز، عابد شکیل، منگت مسیح،  سایئمن سیف، ایسٹر کرامر، بوبی بوب،  نوید مسیح، طارق وکٹر، ایلون ، کاشف جان اور واٹسن گل موجود تھے۔ اس کے علاوہ گیسپر ڈانیئل اور سُنیل عمانیول نے فون پر بتایا کہ نجی مصروفیت کی وجہ سے وہ پہلی میٹینگ میں شرکت سے قاصر ہیں۔

Meeting on 27 Sep 2014 for Asylum seekers 5Meeting on 27 Sep 2014 for Asylum seekers 6

میٹینگ کا آغاز پاسٹر سنی اقبال کی دُعا سے ہوا اور پھر پاسٹر ندیم دین نے اپنے ایک مختصر سے پیغام میں اپنے ان بہن بھایوں کو یہ یقین دلایا کہ ہم سب آپ کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔ خداوند کے دونوں خادموں نے بہت ہی مختصر مگر جامح الفاظ میں شرکاہ کو بتایا کہ کس طرح خداوند کا کلام ہمیں یہ ترغیب دیتا ہے کہ ہم اپنے بہن بھایوں کو اس مشکل وقت میں تنہا نہ چھوڑیں۔ واٹسن سلیم گل نے میٹینگ کے آغاز میں کہا کہ میرا کام تھا کہ سب کو ایک جگہ اکٹھا کیا جائے اور سب کی مشاورت سے حکمت عملی بنائ جائے۔ منگت مسیح نے بتایا کہ ایک میٹینگ میں ڈچ پارلیمنٹ ممبرز نے ان سے کہا کہ آپ کی کمیونٹی میں اتحاد کا فقدان ہے اس لئے آپ کی آواز سنی نہی جاتی۔ اور یہ بات تو پکی ہے کہ کسی چرچ یا تنظیم کے لیٹر کی کوئ حیثیت نہی ہے کہ جب تک یکجہتی کے ساتھ کوئ کام نہ کیا جائے۔ میٹینگ میں موجود ہمارے اسایئلم سیکرز بھایوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈچ حکومت کے غلط فیصلوں پر احتجاج کیا جائے اور جو اس وقت ہمارا ساتھ دینا چاہیئں تو ٹھیک ہے ورنہ ہماری کسی سے ناراضگی نہی ہے۔  میٹینگ میں سب کے مشوروں سے فیصلہ کیا گیا کہ ایک تو احتجاج کا حق ہمارے پاس محفوظ ہے اور اس کے علاوہ ایک اور حکمت عملی پر غور کریں گے جس پر کام شروع کیا جا چکا ہے۔ اس تحریک کے لئے ایک فنڈ قائم کیا گیا ہے جس کے انچارج بوبی باب اور منگت مسیح ہونگے۔ ۔  کمیونٹی کہ ہر شخص سے درخواست کی جائے گی کہ وہ مہینہ کے دس یورو اس فنڈ میں جمح کروایں۔ اگر کوئ زیادہ دینا چاہئے تو دے سکتا ہے۔ مسٹر عمنیویئل نے پچاس یورو سے ابتدا کر دی۔ سایئمن سیف کوآرڈینیٹر کے فرائض انجام دیں گے

Meeting on 27 Sep 2014 for Asylum seekers 2Meeting on 27 Sep 2014 for Asylum seekers 1

ہماری تمام کمیونٹی سے درخواست ہے کہ آگے بڑھیں اور متحد ہو کر اپنی کوشش کریں ہمارے پاکستانی مسیحی مہاجرین کو اس وقت تک انصاف نہی مل سکتا جب تک ہم مشترکہ جدوجہد نہ کریں۔ کوشش ہم اب بھی کریں گے اور کرتے رہے گے۔ مگر کامیابی ہمارے اتحاد میں پنہا ہے۔

Meeting on 27 Sep 2014 for Asylum seekers 7

میٹینگ کے بعد مسٹر عمنئویئل مسیح نے تمام شرکاہ کے لئے نہایت لزیز کھانے کا بندوبست کیا تھا۔ جس کے لئے ہم ان کے شکرگزار ہیں۔

Advertisements