بریکنگ نیوز! سرگودھا کے رہایشی بشیر مسیح ولد نواب پر گُستاخءرسول کا مقدمہ درج ،
اس خبر کے لئے ہم محترم سابق ایم پی اے جناب طاہر نوید چوہدری اور نعیم گل (بھتیجہ بشیر مسیح) کے ممنون ہیں۔
بشیر مسیح ولد نواب مسیح کو انصاف فراہم کیا جائے۔ بشیر مسیح دو معزور بیٹیوں کا باپ اور اپنے خاندان کا واحد کفیل ہے۔ پاکستانی ڈچ کرسچن کمیونٹی ممبرز اور لیوینگ اسٹون اردو چرچ کے پاسٹر ندیم دین، فراز اعجاز، عابد شکیل، بوبی بوب، اکمل گل، جان بھٹی اور واٹسن سلیم گل نے اعلی حُکام سے اپیل کی ہے کہ بشر مسیح کے ساتھ انصاف کیا جائے۔
20-cases-registered-under-blasphemy
تفصیلات کے مطابق سرگودھا کا رہنے والا ستر سالہ بشیر مسیح لوگوں کے گھروں پر سفیدی کرنے والا ایک مزدور ہے۔ سرور لودھی جو کہ بشر کے ساتھ سفیدی کا کام کرتا تھا دونوں کو آصف بٹ نامی ایک شخص نے ایک مسجد پر رنگ کرنے کا کام دیا۔ یہ مسجد جس پر دو مختلف مسالک کے درمیان کافی عرصے سے تناضہ چل رہا تھا۔ اس مسجد کے ایک بورڈ جو کہ کافی زنگ آلودہ تھا اس پر سے پرانا رنگ اتار کر نیا رنگ کرنا تھا۔ پرانا رنگ اتارتے وقت اس بورڈ پر لکھی ایک قرانی آیت کے چند لفظ مٹ گئے جس پر ایک گروپ طیش میں آکر ان مزدوروں کو مارنے لگا پولیس کو بالا کر سارا معاملہ پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ مگر ظلم یہ ہوا کہ پولیس نے مبینہ طور پر سارا الزام بشیر مسیح کے سر پر ڈال دیا اور تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں اس کے خلاف 295/اے/506 کے تحت مقدمہ درج کر دیا۔ اور باقی سب کو فرار کروا دیا۔ بشیر مسیح جو کہ ان پڑھ ہے اور خود بھی دل کے عارضے میں مبتلا ہے۔ اس کیس کو سابق ایم پی اے پنجاب اور پاکستان مینورٹی آلایئنس کے چیئرمین جناب طاہر نوید چوہدری دیکھ رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ خود اس کیس کی پیروی کریں گے۔

Advertisements