واٹسن سلیم گل اور پاسٹر ندیم دین نے گزشتہ ہفتے بدھ کے روز ہالینڈ کے شہر ڈیفلذ میں امیگریشن امور کے معروف وکلا کے ایک پینل سے ملاقات کی اور پاکستانی مسیحی پناہ گزین کی درخواستوں کے مسترد کئے جانے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ اس حوالے سے کچھ تیاری کرنی تھی جو اب مکمل ہو چکی ہے اور ہم اپنے پناہ گزین بھایوں کے لئے کوشش کو جاری رکھیں گے۔
تقریبا ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات میں مسٹر فان در فوٹ اور مسٹر ذوندر ہنس نے کہا کہ وہ پاکستانی مسیحوں کے حوالے سے آگاہ ہیں اور اپنی پوری کوشش کرینگے۔ یاد رہے کہ وکلا کی اس ٹیم نے دو پاکستانی مسیحی خاندانوں کو جن کو ڈیپورٹ کرنے کی تیاری کی جا چکی تھی ان کی مدد کی اور آج وہ خاندان سیٹل ہو چکے ہیں۔ پاسٹر ندیم نے مسیحی پناہ گزین سے جیل میں ملاقات کے حوالے سے ان وُکلا کو آگاہ کیا اور ان کی مدد کی درخواست بھی کی۔ فان در فوٹ نے کہا کہ ہم مل کر کیسس کے حوالے سے مضید تحقیق کر کے ان پر کام کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔ یاد رہے کہ وکلا کی یہ ٹیم صرف اُن کیسس کو ہینڈل کرتی ہے جو بند ہو چکے ہوں۔ اور اس طرح کے کیسس سے کوئ فیس بھی وصول نہی کرتی۔
ہم ہالینڈ میں اپنے مسیحی پناہ گزین بہن بھایئوں جن کی درخواستیں مسترد ہو چُکی ہیں اپیل کرتے ہیں کہ اگر وہ چاہیں تو ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ہم صرف کوشش کر سکتے ہیں ،اور کرتے ہیں باقی( کام رب دا نام)
اسکے بعد جعمرات کو لیوینگ اسٹون اردو چرچ ہالینڈ کے پاسٹر ندیم دین، سیکٹری عابد شکیل، سلیم الماس بٹ اور واٹسن سلیم گل نے تراپل کے ڈیپورٹینگ سینٹر میں ایک خاندان سے ملاقات کی اور ہر قسم کی سپورٹ کی یقین دہانی کرائ۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ اپنے پناہ گزین بھایوں کو تنہا نہی چھوڑیں گے اور ان کو انصاف دلانے کے لئے اپنی بھرپور کوشش کریں گے۔

Advertisements