پاکستانی مسیحی کمیونٹی کے وفد نے ڈچ پارلیمنٹ میں آسیہ بی بی کے حوالے سے منعقد کی گئ کانفرنس میں شرکت کی۔ واٹسن سلیم گل،
photo 2.. photo 3 good
وفد میں مزہبی ،سیاسی اور سماجی راہنماؤں نے شرکت کی ۔ جن میں مزہبی راہنما پاسٹر ندیم دین، بیلجئم سے پاسٹر کیمرون تھامس ایویجلسٹ مایئکل ویئلم، کرسچن یونی کے نمایندے جانسن ویلئم، عابد شکیل، جاوید روبن، نوید بھٹی، گُلباز فضل، اونیل میتھیو اور واٹسن سلیم گل شامل تھے۔
photo 4..photo 311
جمعرات 13 اکتوبر 2014 کو ڈچ پارلیمنٹ میں آسیہ بی بی کے حوالے سے ایک کانفرنس منعقد کی گئ جس کا مقصد آسیہ بی بی کے لئے آواز بلند کرنا اور گستاخ رسول کے قوانین کے غلط استمال پر حکومت پاکستان سے اپنے تحفظات کا اظہار کرنا تھا۔
photo 11..photo 4 good 2
اور اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے نارواہ سلوک پر دباؤ بڑھانا تھا۔ اس کانفرنس میں ڈچ پارلیمنٹ میمبر جویئل فورد وینڈ ، یوروپیئن پارلیمنٹ کے میمبر پیٹر فان ڈیلن کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمایندے جوبلی کمپیئن، اوپن ڈور ، ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے علاوہ دیگر مکاتب فکر کے لوگ شریک ہو ئے۔ پارلیمنٹ ممبرز کی تقاریر کے علاوہ پاکستانی مسیحی کمیونٹی سے واٹسن سلیم گل اور کرسچن یونی کے نمایندے جانسن ولیئم بھی سپیکر لسٹ میں تھے۔ کرسچن یونی کے نمایندے جانسن ولیئم اورواٹسن گل نے اپنی تقاریر میں آسیہ بی بی کیس اور گستاخ رسول کے قوانین پر بات کی۔ اور ڈچ پارلیمنٹ کو درخواست کی کے وہ اپنا کردار ادا کریں۔ اس کے علاوہ ایویجلسٹ مایئکل ولیئم، پاسٹر ندیم دین، اونیل میتھیو اور عابد شکیل نے بھی اپنے سوالات سے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔

Advertisements