نیدرلینڈزکے پاکستانی مسیحی پناہ گزین 3 دسمبر 2014 کو اپنے حق کے لئے مظاہرے سے دستبردار ہوتے ہیں، منگت مسیح، طارق مسیح۔ طارق وکٹر، پاسٹر سنی اقبال ، سایئمن سیف، سہیل ولیئم،

کیونکہ ہالینڈ کے ایک پاکستانی چرچ نے اس مظاہرے سے چند دن قبل اپنے مظاہرے کا اعلان کر دیا ہے جو کے جانتے تھے کہ ہم مسیحی پناہ گزین 3 دسمبر کو مظاہرا کریں گے۔ اور یہ ان کا مظاہرہ مسیحی پناہ گزینوں کہ اس مظاہرے کو کمزور کر دے گا اور ہم مسیحی پناہ گزینوں کی آواز دب جائے گی۔ ہم نے اس مظاہرے کا اہتمام کرنے والوں سے درخواست کی تھی کہ ہمیں سپورٹ کریں ہم اپنے خاندانوں سے دور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بہت سے ایسے ہیں جنہوں نے کئ سالوں اپنے بیوی، بچوں اور ماں باب کو نہی دیکھا۔ زہنی اور جسمانی طور پر مخدوش ہیں اور ہم نے مسیحی پناہ گزینوں کے حق کے لئے مظاہرے کی تیاری کر لی ہے اور اس کے لئے ہمارے مسیحی پناہ گزینوں نے اپنی جیب کاٹ کر بینر، پمفلٹ اور دگر اخراجات جو کہ ہمارے لئے بہت مشکل تھے کئے ہیں ۔ ہم نے اپنے مسیحی بہن بھیوں کو جو کہ اب ہالینڈ میں سیٹل ہیں اپنے خاندانوں کے ساتھ ایک اچھی زندگی گزار رہے ہیں درخواست کی تھی کہ ہمیں صرف آپ کی اخلاقی حمایت کی ضرورت ہے۔ مگر لگتا ہے کہ وہ بھی ہمیں مشکل سے ملے گی۔ ہم کمزور مسیحی ہیں اس لئے کسی جھگڑے میں پڑنے کئ بجائے ہم اپنے مظاہرے کو 3 دسمبر 2014 کے بجائے 28 جنوری 2015 کو کرنے کا اعلان کرتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں خدارا ہماری اس جدوجہد کو ناکام بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔ ورنہ ہم اپنی درخواست بجائے ہالینڈ کی حکومت کے بجائے بارگاہء الہی میں دیں گے سب کا انصاف کرے گا۔ اور ہم اُن تمام مسیحیوں کے شکرگزار ہیں جو مسیحی پناہ گزینوں کے دُکھ اور مشکلات کو سمجھتے ہیں اور ہمیں سپورٹ کرتے ہیں۔

Advertisements