نیدرلینڈ میں پاکستانی مسیحی پناہ گزین کے حقوق کے لئے ڈچ پارلیمنٹ کے سامنے مظاہرہ 28 جنوری کو ہوگا۔

یاد رہے کہ یہ مظاہرہ 3 دسمبر کو ہونا تھا جو کہ نیدرلینڈ کے ایک چرچ کی جانب سے ہونے والے مظاہرے کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا۔ میں اس مظاہرے کے حوالے سے زیادہ کچھ نہی کہونگا سوائے اس کے کہ اگر یہ مظاہرہ پوری کمیونٹی کے لئے ہوتا اور آپسی اتحاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے گرد دائرہ نہی کھینچا جاتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔ میں مزکورہ چرچ کے پولیٹیکل وینگ کو تین سال سے زیادہ لیڈ کرتا رہا ہوں۔ بہت سے پروٹسٹ ، یوروپیئن پارلیمنٹ اور ڈچ پارلیمنٹ کی میٹینگز کو لیڈ کرتا رہا ہوں مگر میں نے کبھی بھی بہت دباؤ کے باوجود بھی چرچ کا نام استمال کرنے کے بجائے( پی ڈی سی سی) پاکستانی ڈچ کرسچن کمیونٹی کی اصطلاح استمال کی اور تمام چرچز، سیاسی ،سماجی اور مزہبی شخصیات کو ساتھ ملا کر یکجہتی ور باہم مشاورت کے ساتھ تحریکیں چلایں۔ ان میں پاسٹر صاحب کی سپورٹ بھی ملی جس کے لئے میں ان کا شکریہ بھی ادا کرتا ہوں اس کے علاوہ جانسن ولیئم، جاوید گل ، ایلڈر مورس عنایت کی بھرپور سپورٹ رہی۔ کچھ میٹینگز میں انجم اقبال کا ساتھ بھی رہا ہے۔ اور مجھے ان دوستوں کی کمیونٹی کے لئے خدمات کا آج بھی اعتراف ہے۔ اور میں آج بھی ان کا احترام کرتا ہوں ۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کمیونٹی کے لئے چلائ جانے والی تحریکٰیں کمیونٹی کے اتحاد کے بغیر ممکن نہی ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ایک چرچ پروٹسیٹ کرتا ہے، دوسرے ہفتہ دوسرا چرچ اور پھر تیسرے ہفتے تیسرا چرچ پروٹیسٹ کرتا ہے۔ تو یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ہمیں کامیابی ملے۔ کیونکہ خدا کا کلام ہمیں سکھاتا ہے کہ صرف یک دلی اور اتحاد ہی ہمیں کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے۔ بلکہ اس کا نقصان ہوتا ہے۔ آپ نے مظاہرے کا اعلان کیا تھا آپ مظاہرے کو لیڈ کرتے انتظام اپنے ہاتھ میں رکھتے ہمیں کوئ اعتراض نہی تھا، صرف نام کی رکاوٹ ہٹا دیتے تو ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہونے میں ہچکچاہٹ محسوس نہی کرتے۔ مجھے آج بھی یقین ہے کہ کمیونٹی کے ایشوز پر ہم متحد ہونگے تو ہی کامیاب ہونگے۔ اور دوسری بات کہ 28 نومبر کے مظاہرے کے حوالے سے چار نکاتی ایجینڈے کا دعواہ کیا گیا۔ مگر جو رپورٹ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ مظاہرہ پاکستانی سفارتخانے کے سامنے تھا اور پٹیشن بھی پاکستان کے سفیر کو دی گئ، تو میری ناقص عقل یہ کہتی ہے کہ مسیحی پناہ گزینوں کے بارے میں جو چوتھا نکتہ پٹیشن میں موجود تھا، تو پناہ گزینوں کی آواز کو اُٹھانے کے لئے سفارتخانہ تو مجاز ہی نہی تھا۔ اور نہ ہی سفیر پاکستان ہمارے مسیحی پناہ گزینوں کے نیدرلینڈ میں حقوق کے لئے کوئ کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پناہ گزینوں کے مسایئل کو پیش کرنے کا صیح فورم ڈچ پارلیمنٹ یا پھر آئ این ڈی ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ ایک بیمار شخص کو ہسپتال لیکر جایا جاتا ہے نہ کہ کسی اسکول، کالج یا پھر پولیس اسٹیشن۔
1452240_1165461773483472_4109917260547357743_n
مسیحی پناہ گزینوں کے لئے شروع کی جانے والی تحریک کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس مظاہرے کو ہمارے تین مسیحی پناہ گزین بھائ منگت مسیح، پاسٹر سنی اقبال اور پاسٹر عمران لیڈ کرینگے۔ اس کے علاوہ ہمیں پاسٹر ندیم دین، پاسٹر کیمرون بھٹی ، پاسٹر ولیئم پیغانی اور اوینجلسٹ مایئکل ولیئم کی سپورٹ بھی رہی ہے۔ کمیونٹی کی بہت سی سیاسی ، سماجی شخصیات نے اس تحریک کا بوجھ اٹھانے کے لئے اپنے کاندھے پیش کئے ہیں، جن میں عابد شکیل، فراز اعجاز، مورس عنایت، پرویز اقبال، اعجازمیتھیو زوالفیقار، غفران سلیم، پرویز ولیئم، بوبی بوب، جان بھٹی، ایگبرٹ الیاس، طارق مسیح، طارق وکٹر، سایئمن سیف، ندیم بشیر، سہیل ولیئم، ایلون جان، کاشف جان، شہزادا بھٹی، نوید شامل ہیں ،جبکہ بیلجیئم سے پاسٹر کیمرون تھامس، لطیف بھٹی اور شاہد پرویز بھی اس تحریک کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہی ہے کہ ناموں کی یہ فہرست مکمل ہو چکی ہے۔ اور بہت سے بھائ جو نیدرلینڈ اور بیلجیئم سے تعلق رکھتے ہیں وہ اس میں اپنا نام شامل کروا سکتے ہیں۔ اس کے لئے وہ منگت مسیح، پاسٹر سنی اقبال ، پاسٹر عمران یا پھر مجھ سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔
ہمیں صرف خداوند یسوع مسیح کے نام پر یکجا ہونا ہے۔ اسی میں ہماری بقا اور کامیابی پنہا ہے۔
” غرض سب کے سب یک دل اور ہمدرد ہو، برادرانہ محبت رکھو۔ نرم دل اور فروتن بنو” ۔ 1-پطرس 3 باب اسکی 8 آیت

Advertisements