میں سفیر پاکستان برائے نیدرلینڈ عزت ماآب جناب معظم احمد خان کی دعوت (کرسمس ڈنر)پر دل سے مشکور ہوں کہ انہوں نے کرسمس پر مجھے مدعو کیا مگر میں شرکت سے معزرت چاہتا ہوں ،واٹسن سلیم گل،
foto1111
یہ واقئ قابل تحسین عمل ہے جس کے لئے ہمارے سفیر کے لئے ہماری نظر میں احترام اور عزت میں اضافہ ہوا ہے کہ کرسمس کے موقع پر ہمارے سفارتخانے نے ایک کرسمس ڈنر کا اہتمام کیا ہے۔ مگر ساتھ ہی میں اس دعوت میں شرکت سے معزرت خواہ ہوں کیونکہ میں اس بار کرسمس کو انتہائ سادگی سے منانا چاہتا ہوں اور صرف مزہبی تقریبات میں شرکت کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ کیونکہ حال ہی میں ہمارے پاکستانی مسیحی بھائ شہزاد مسیح اسکی بیوی شمع مسیح اور ان کے معصوم بچے کو جو ابھی دنیا میں بھی نہی آیا تھا زندہ جلا دیا گیا۔ میں اس واقعے میں حکومت پاکستان کے مثبت اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ مگر اس واقعہ کے بعد 9 مسیحیوں کے خلاف اسلام آباد میں توہین رسالت کا مقدمہ درج ہوا، ایک اور واقعے میں قیصر ایوب کو لاہور پولیس نے توہین رسالت کے مقدمہ میں گرفتار کیا ، پھر سحرش مسیح 16 اور فرزانہ مسیح 14 کو زبردستی بے آبرو کر دیا گیا اور ان کے غریب خاندان کو دھمکایا جا رہا ہے مگر ان مظالم کی سرکوبی کے لئے کچھ بھی نہی کیا جارہا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت جبکہ ہمیں اپنے غمزدہ مسیحی بہن بھایوں کے غم میں شریک ہونا چاہئے ۔اور متحد ہو کر ان کے لئے آواز بُلند کرنی چاہے۔ چونکہ دل اداس ہے اور اپنی مسیحی کمیونٹی جو کہ پاکستان میں خود کو غیر محفوط سمجھتی ہے ان کے ساتھ کھڑا ہوں ۔ میں سفیر پاکستان برائے نیدرلینڈ سے درخواست کرونگا کہ وہ ان مظالم کی روک تھام کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔ ہم پاکستانی مسیح اپنے ملک کی بقا اور سلامتی کے لئے دُعا گو ہیں۔

Advertisements