پاکستانی ڈچ کرسچن کمیونٹی ممبرز نے اپنے مسیحی پناہ گزین بہن بھایئوں کے حقوق کے لئے ایمانداری سے ایک جنگ لڑی جس میں پہلے مرحلے میں خدا قادرمطلق نے ہمیں سرفرازی بخشی۔ یہ ایک تفصیل رپورٹ ہے پڑھ کر فیصلہ خود کیجئے ۔
خدا اپنے کلام میں فرماتا ہے،

کرنتھیوں 2 اسکا 12 باب اور اسکی9- 10 آیت، مگر اُس نے مجھ سے کہا کہ میرا فضل تیرے لئے کافی ہے۔ کیونکہ میری قدرت کمزوری میں پوری ہوتی ہے۔ پس میں بڑی خوشی سے اپنی کمزوری پر فخر کرونگاتاکہ مسیح کی قدرت مجھ پر چھائ رہے۔ (10)، اس لئے میں مسیح کی خاطرکمزوری میں، بے عزتی میں، احتیاج میں ، ستائے جانے میں، تنگی میں خوش ہوں کیونکہ جب میں کمزور ہوتا ہوں اسی وقت زورآور ہوتا ہوں۔

ڈچ حکومت نے تسلیم کر لیا کہ مسیحی بھی پاکستان میں محفوظ نہی ہیں۔ اس فیصلے کے خوشگوار اثرات ہمارے پناہ گزین بہن بھایئوں کے کیس پر پڑینگے۔ یہ ایک مشترکہ جدوجہد تھی اور اس جدوجہد میں ہالینڈ کے تمام پاکستانی چرچز، سیاسی، سماجی اور مزہبی شخصیات کا برابر کا ہاتھ ہے۔ اسی لئے میں ہمیشہ ان تحاریک کو پاکستانی مسیحی کمیونٹی کا نام دیتا ہوں۔ اس سے اتحاد اور یکجہتی ظاہر ہوتی ہے اور کسی کی بھی دل آزاری نہی ہوتی۔ میڈیا کے زریعے تو یہ تحریک 2002 سے شروع ہوئ جب ایک مسیحی فیملی کو ڈیپورٹ کرنے کی کوشش کی گئ۔ اس پر ہماری ٹیم جس میں رمل ولسن بھی شامل تھے ہم نے آواز اٹھائ اور ایک اخبار نے ہماری آواز کو مضید بُلند کیا اسکے بعد ایک اور ڈچ اخبار نے بھی اسی فیملی کے حوالے سے آواز اتھائ۔ ۔ اسکے علاوہ ڈچ پرنٹ میڈیا نے 10 سے زائد بار ہماری آواز کو حُکام بالا تک پہنچایا۔ اس میں بھی ہماری ٹیم نے شاندار کردار ادا کیا ۔ اس میں مختلف اوقات میں مختلف ممبرز تھے۔ جن کی تصاویر میں پوسٹ کرونگا۔ چونکہ میرے پاس تمام شواہد موجود ہیں کہ کس ممبر نے اس جدوجہد میں کتنا حصہ ڈالا ہے تو میں چاہونگا کہ کمیونٹی کو حقیقت سے روشناس کیا جائے۔

2002 میں ایک اور اخبار نے میرا انڑرویو کیا جس میں میں نے پاکستانی مسیحی پناہ گزینوں کی بات کی مگر اس انٹرویو کے تین بعد ہی ایک ڈچ سماجی شخصیت نے اسی اخبار میں میرے اس بیان کو جھٹلا دیا کہ پاکستان میں مسیحیوں کو پرابلم ہے۔ اس گورے نے کہا کہ اسے ایک پاکستانی مسیحی نے کہا ہے کہ میں جب بھی پاکستان جاتا ہوں آزادی محسوس کرتا ہوں۔ اس گورے نے اخبار میں یہ بھی کہا کہ میں خود پناہ گزین ہوں اس لئے شائد ایسا بیان دے رہا ہوں جب کہ حقیقت یہ تھی کہ میرا کیس تو 2000 میں پاس ہو چکا تھا ۔

478573_3196164312278_231242351_o
ہمارا سب سے پہلا کمیونٹی وفد 27 مئ 2012 کو وزارت خارجہ میں پناہ گزینوں کے حوالے سے ایک پٹیشن اسٹیٹ سیکٹری کے حوالے کرتے ہں

اس کے بعد 7 اگست 2012 کو بھائ عابد شکیل ایک لیٹر جوئیل فورد وینڈ کے لئے ڈچ زبان میں مجھے بیجھتے ہیں جسے میں 9 اگست 2012 کو ڈچ پارلیمنٹ کے ممبر اور اس جدوجہد کے روح رواں جناب جوئیل فورد وینڈ کو ای میل کرتا ہوں۔ اور ان سے پاکستانی مسیحی پناہ گزینوں کے مسائیل پر میٹینگ کی درخواست کرتا ہوں جسے وہ قبول کرتے ہیں۔ اسکے بعد میں جناب جانسن ولیئم سے درخواست کرتا ہوں کہ چونکہ وہ ڈچ زبان مجھ  سے زیادہ بہتر جانتے ہیں تو وہ مضید خط ؤکتابت کریں اور میٹینگ کا وقت اور جگہ کا انتخاب کریں اور اس میٹینگ کو لیڈ بھی کریں۔

204854_3585521525965_819515919_o
یہ وفد مسٹر جویئل سے ایمسٹرڈیم کے ایک ریسٹورینٹ میں ملاقات کرتا ہے۔

foto (1)
13 اگست 2012 کو میں نے اپنی ٹیم کی منظوری سے یوروپیئن پارلیمنٹ میں مسیحی پناہ گزینوں کے حوالے سے ایک پٹیشن بھیجی جس کا انہوں نے جواب بھی دیا۔

39270_3702829618594_1010826997_n
مسیحی پناہ گزینوں کے حوالے سے ڈچ اخبار کے ساتھ ہمارے کمیونٹی ممبرز کی میٹینگ جو 8 اکتوبر 2012 کو ہوئ جس میں سونیل عمیویئل کا انٹرویو بھی شامل ہے۔
1471936_10201034637537387_1830629844_n1503293_10201034636217354_1493791290_n
ہم نے ہمت نہی ہاری 12 دسمبر 2013 کو ہمارا ایک وفد ایک بار پھر ڈچ پارلیمنٹ ممبر جناب جوئیل فوردوینڈ سے ملا اور اس میٹینگ میں ہم نے یہ سوال اٹھایا کہ پاکستانی احمدیوں کے کیس پاس ہو رہے ہیں مگر مسیحیوں کے نہی ایسا کیوں۔ اس میٹینگ میں ہم نے کچھ ڈچ تنظیموں کی مدد بھی حاصل کی۔
10152380_10201726473792861_6252192854478971381_n

کمیونٹی ممبرز کے حوصلے بُلند تھے 27 مارچ 2014 کو انہوں نے ہالینڈ کی ایک طاقتور سیاسی پارٹی سی ڈی اے کے پارلیمنٹ ممبر جناب پیٹر اومزخت سے اس حوالے سے مُلاقات کی ۔اس بار بیلجیئم سے جناب لطیف بھٹی صاحب نے بھی ہماری اواز کے ساتھ آواز ملا کر اسے مضید مضبوط بنایا ۔

ہمارے کمیونٹی ممبرز جو آپ کو تصویروں میں نظر آرہے ہیں صرف یہ ہی اس تحریک میں نہی تھے بلکہ بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو اس تحریک میں تصویر سے باہر ہیں مگر ہر طرح سے ان کا کردار ہمارے پناہ گزینوں کے لئے بہت اہم رہا ہے۔ جن میں پاسٹر ایرک سرور، پاسٹر ندیم دین ، اوینجلسٹ مایئکل ولیئم شامل رہے۔ پاسٹر ایرک سرور کا میں زاتی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ چرچ کے پولیٹیکل وینگ کی لیڈرشپ کے دوران نظریاتی اختلافات کے باوجود بھی ان کی بھرپور سپورٹ رہی۔ نظریاتی اختلافات کی ایک جھلک ہماری یوٹیوب پر ویڈیو میں موجود ہے ۔ اس وڈیو میں 2010 میں میرا موقف اگر تبدیل ہوا ہو تو جو سزا وہ مجھے منظور۔ اس وڈیو میں میں ایک بار پھر پاسٹر ایرک اور اس وقت کی چرچ کمیٹی کا مشکور ہوں جس نے 2010 کے پروٹسیٹ میں بھی چرچ کے نام کے بجائے کمیونٹی کی اصتلاح استمال کرنے پر مجھے سپورٹ کیا۔ پناہ گزین کی کامیابی میں انکا بڑا حصہ ہے۔

پاسٹر ندیم دین نے بھی اس روایت کو جاری رکھا اور نہ صرف کلیسائ طور پر بلکہ زاتی طور پر بھی اس تحریک میں متحرک کردار ادا کیا۔ اور ہر قدم پر ہمیں بھرپُور سپورٹ کیا۔ اوینجلسٹ مایئکل ویئلم بھی اس حوالے سے سرگرم رہے ۔ ہر میٹینگ یا مظاہرے میں سرگرم رہے۔ جانسن ولیئم صاحب کے حوالے سے دعوا کیا گیا کہ اس تحریک کی کامیابی کی خبر کی ای میل 18 دسمبر کو سب سے پہلے ان کو ملی۔ میرا مقصد جانسن بھائ کو چیلنج کرنا نہی ہے اور نہ ہی میں اپنے آپ کو اس قابل سمجھتا ہوں مگر چونکہ میں بھی دعوا کر چُکا ہوں کہ مجھے یہ خبر 17 دسمبر کو رات ساڑھے گیارہ بجے خود پارلیمنٹ ممبر جناب جویئل نے ایس ایم ایس کے زریعے دی تھی۔ میرے پاس وہ ایس ایم ایس محفوظ ہے۔ اور میں نے اس کی فوٹوگراف بھی بنا لی ہے۔ مگر چونکہ بات جانسن بھائ کی ہے اور میں ان کی عزت کرتا ہوں اس لئے اس فوٹو کو پوسٹ نہی کرونگا مگر یہ ضرور کہونگا کہ جس نے بھی ایس ایم ایس دیکھنی ہے وہ مجھ سے رابطہ کر سکتا ہے۔ ویسے میں نے بھائ انجم اقبال کو یہ ایس ایم ایس دکھا دی ہے۔ اس کے علاوہ روبن جاوید گل، ساجد بھٹی عابد شکیل، مورس عنایت، انجم اقبال، فراز اعجاز، بوبی بوب، منگت مسیح، انجم اقبال، غفران سلیم، جان بھٹی، کلیم سلیم، اکمل گل کیون ایرک، شہزاد بھٹی ، انیل اور راقم یعنی واٹسن گل اس تحریک میں کسی نہ کسی صورت میں موجود رہے بلکہ اس تحریک میں کُلیدی کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ پرویز اقبال صاحب کے مُفید مشورے ، جنہوں نے معتد بار زبردست پٹیشنز لکھیں اور اس تحریک میں سرگرم رہے ۔ مسیحی پناہ گزینوں کی مدد کے حوالے سے دیگر مرحلوں میں بھی خدمات قابل فخر ہیں جس میں گُلباز فضل، نیامت بھٹی، میتھیو اعجاز زوالیفقار، گیسپر ڈانیئل، سیلویسٹر تائر قابل زکر ہیں۔ سیلویسٹر تائر اور گیسپر ڈانیئل سری لنکا اور تھائ لینڈ کی پناہ گزینوں کے لئے بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔ جو کہ قابل فخر بات ہے۔ اس کے علاوہ پرویز ویلئم صاحب سے میں نے کہا کہ پناہ گزینوں کے لئے چلائ جانے والی تحریک کے لئے ہمیں فنڈز کی ضرورت ہے تو انہوں نے جواب کہ جب ضرورت ہو تو مجھ سے رابطہ کر لینا۔ یہ تمام مسیحی اس تحریک میں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی کردار میں موجود تھے۔ اور بغیر کسی وابستگی کے اپنے پناہ گزین بہن بھایئوں کے لئے اس جدوجہد کا حصہ تھے۔ میری یہ خوش قسمتی ہے کہ زات اقدس نے مجھے بھی یہ موقع دیا کہ اس تحریک میں ایک چھوٹا سا حصہ بن سکوں ہم نے صرف کوشش کی ہے اور اسکا نتیجہ میرے رب کی جانب سے ہے۔ میں اپنی کمیونٹی سے درخواست کرتا ہوں کہ ہمیں مل کر اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ ابھی مضید کام کرنا ہے۔ اور ہر اُس قدم سے گریز کرنا چاہئے جس سے ہماری کمیونٹی میں انتشار پیدا ہو۔

سیاسی پناہگزینون کا کردار بھی اپنے حقوق کے لئے شاندار رہا۔ منگت مسیح، پاسٹر سنی اقبال، پاسٹر عمران، طارق وکٹر، ایلون جان، طارق مسیح، کاشف جان اور بہت سارے بھائ 28 جنوری 2015 کو اسی حوالے سے مظاہرے کی تیاری کر رہے تھے  اور ان کے ساتھ جیل سے سایئمن سیف، ندیم بھی تیاری میں مصروف تھے۔  میں ان سے درخواست کرونگا کہ وہ اس احتجاج کو موخر کریں اور ڈچ حکومت کے اس نئے فیصلے ثمرات کا انتظار کریں۔ اگر مظاہرے کی ضرورت پڑی تو ہم آپ کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔

میں نے کبھی بھی فون کر کے کسی کو بھی التجا نہی کی کہ وہ میری پوسٹ پر کومنٹ کریں یا لائق کریں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ میری اپنی فیملی کا لائق یا کومنٹ میری پوسٹ پر نہی ہوتا اور نہ ہی میں اپنے چرچ ممبرز کو ایسا کرنے کے لئے کہتا ہوں اس کا ثبوت میری پوسٹ کو دیکھ کر مل جائے گا۔ کیونکہ میں گروپنگ پر یقین نہی رکھتا۔ اور سمجھتا ہوں کہ ایسا کرنے سے سوائے شر کے اور کچھ حاصل نہی۔

میں اور میرے خاندان کی جانب سے تمام مسیحوں کو کرسمس اور نیا سال مبارک ہو۔ میں اگر کوئ نام بھول گیا ہوں تو اسے میری کم عقلی سمجھ کر معاف کیجئے گا۔ میں نے وہ تصویر پیش کی ہے جو میں نے دیکھی ہے۔

Advertisements