پاکستانی مسیحی پناہ گزینوں کے حقوق کے لئے 28 جنوری کو کیا جانے والا احتجاج عارضی طور پر منسوخ کیا جا رہا ہے۔ واٹسن گل،
یہ مظاہرہ جس کا اہتمام مسیحی پناہ گزین منگت مسیح، پاسٹر سنی اقبال اور پاسٹر عمران کی راہنمائ میں منقد کیا جا رہا تھا اسے وقتی طور پر منسوخ کیا جارہا ہے۔ کیونکہ ڈچ حکومت نے حال ہی میں یہ تسلیم کیا کہ پااکستان میں صرف احمدی ہی نہی بلکہ مسیحی بھی مظالم اور بربریت کا شکار ہیں۔ جیسے کہ آپ جانتے ہیں کہ یہ ہالینڈ میں رہنے والے پاکستانی مسیحوں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے مگر پھر بھی” ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں”۔
میں زاتی طور پر مسیحی پناہ گزینوں کے حالات کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے ڈچ حکومت کی جانب سے عملی طور پر کوئ خیر کی بات دیکھنے میں نہی آرہی ہے۔ جو مسیحی بھائ جیل میں ہیں وہ بھی مایوس ہیں اور گزشتہ ہفتے دو مسیحوں کا حقہ پانی بند کر دیا گیا ہے جو کہ قابل قبول نہی ہے۔ میں پوری کمیونٹی سے درخواست کرتا ہوں کہ آپسی اتحاد اور محبت کو برقرار رکھ کر اپنے مہاجر بہن بھایئوں کے ساتھ کھڑے ہوں کیونکہ خُدا کا کلام ہمیں یہ سکھاتا ہے۔
میں تمام مزہبی، سیاسی اور سماجی راہنماؤں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مل کر ہمارے مہاجرین بہن بھایئوں کے اس گھمبیر مسلئے پر اپنا کردار ادا کریں۔ میں تمام چرچز کے پاسٹرز اور چرچ سیکٹریز سے درخواست کرتا ہوں کہ مل کر ایک مشترکہ کمیٹی کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایک ایسی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے جس میں تمام چرچز کی نمایندگی ہو اور فیصلے بھی باہم رضامندی اور اتفاق رائے سے کئے جایں۔ خداوند ہماری مدد کرے۔ آمین۔

Advertisements