جسٹس نور الحق قریشی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ممتاز قادری کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے گورنر پنجاب کے قتل کے مقدمے میں موت کی سزا کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔
مجرم کے وکیل اور لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے کہا کہ اس مقدمے میں نہ تو شکایت کندہ کی طرف سے ابھی تک عدالت میں آیا ہے اور نہ ہی وفاقی حکومت اس مقدمے کی پیروی کرنے کو تیار ہے۔
بینچ میں موجود جسٹس شوکت صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس تاثر کو زائل ہونا چاہیے کہ اس مقدمے کا استغاثہ کسی خوف کی وجہ سے مقدمے کی پیروی کرنے کو تیار نہیں ہے۔
MumtazQadri
اُنھوں نے کہا کہ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کی ذمہ داری عدالتوں پر ڈال دی جاتی ہے جو مناسب نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ عدالت گورنر پنجاب کے مقدمے کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کو تیار ہے۔
اس مقدمے میں سرکاری وکیل جہانگیر جدون اور ایڈووکیٹ جنرل میاں رؤف نے اس مقدمے کی تیاری کے سلسلے میں عدالت سے دو ہفتوں کی مہلت مانگی تاہم عدالت نے اس مقدمے کی سماعت ایک ہفتے تک کے لیے ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ ممتاز قادری کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے یکم اکتوبر 2011 کو سلمان تاثیر کے قتل کے اعتراف پر ممتاز قادری کو موت کی سزا سنائی تھی جبکہ 11 اکتوبر 2011 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نےمجرم کی درخواست پر سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا تھا جس کے خلاف وفاق نے ابھی تک عدالت عالیہ میں درخواست دائر نہیں کی۔
ممتاز قادری کا تعلق پنجاب پولیس کی ایلیٹ فورس سے تھا اور وہ سلمان تاثیر کی ذاتی سکیورٹی پر تعینات تھے۔ چار جنوری سنہ 2011 میں مجرم نے گورنر پنجاب کو مبینہ طور پر توہین رسالت کے قوانین کی مخالفت کرنے پر قتل کر دیا تھا۔
سماعت کے موقعے پر ممتاز قادری کے حامیوں کی ایک خاصی تعداد اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر موجود تھی، تاہم اُن میں سے کسی کو بھی عدالت کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔
واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اس درخواست کی سماعت کے موقعے پر مناسب حفاظتی اقدامات کیے جائیں اور کسی بھی غیر متعقلہ شخص کو عدالت کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیں۔

Advertisements