ہالینڈ کی وزارت انصاف نے یقین دلایا ہے کہ وہ جلد پاکستانی مسیحوں کی پناہ کے حوالے سے پارلیمنٹ میں بحث کرینگے، واٹسن سلیم گل

ایک خط جو ہم نے وزارت انصاف کو لکھا تھا اور درخواست کی تھی کہ پاکستانی مسیحیوں کی پناہ کی درخواستوں کو منسوخ نہ کیا جائے۔ بہت سے مسیحی پناہ گزین ہالینڈ میں مشکلات اور پریشانی کا شکار ہیں ،زہنی اور جسمانی طور پر ٹھیک نہی ہیں۔ چند مسیحی جیلوں میں اور ڈیپورٹینگ سینٹرز اور بہت سے اسٹریٹ پر ہیں۔ یہ زیادتی ہے۔ حالانکہ حال ہی میں ڈچ حکومت کی جانب سے ایک اعلان کیا گیا تھا اور مسیحیوں کو بھی پاکستان کی مظلوم کمیونٹی تسلیم کیا گیا تھا۔ مگر اس کے باوجود بھی حالات میں تبدیلی دیکھنے میں نہی آئ۔ اس کے علاوہ کچھ ڈچ پارلیمنٹ ممبرز نے ہمارے خط کے جواب میں لکھا ہے کہ حکومت کے نئے اعلان کا مطلب ہرگز یہ نہی ہے کہ پاکستانی مسیحیوں کو صرف مسیحی ہونے پر یہاں رہنے کی اجازت ہو گی ،بلکہ انہیں اپنی زاتی پرابلمز کو ثابت کرنا ہوگا۔ تو میرا سوال یہ ہے کہ یہ تو پہلے بھی تھا۔ تو اس میں تبدیلی کیا ہے۔ جب کوئ اپنی جان بچانے کے لئے فرار ہوتا ہے تو وہ ثبوت اکھٹے کرنے کے لئے وقت ضایع نہی کرتا۔ مگر پھر بھی یہ ڈچ حکومت کا استحقاق ہے کہ وہ اپنی تسلی کرے۔
foto (4)۔۔foto (6)
بحرحال ہالینڈ میں مسیحی پناہ گزینوں کی حالت احمدی کمیونٹی کے مقابلے میں زیادہ مخدوش ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ صرف گزشتہ 10 دنوں میں 4 مسیحیوں کی پناہ کی درخوساتیں مسترد کی گیئں۔ بلکہ تین کو تو کیمپوں سے نکال دیا گیا ہے جن میں سے ایک بیمار ہے اور گردوں کے مرض میں مبتلا ہے اور ایک مسیحی جو کہ نوجوان ہے جس کو کیمپ سے نکالنے کا مطلب اس کا مستقبل خراب کرنا ہے ۔یہ نوجوان جس کی عمر پڑھنے لکھنے کی ہے اس کے ساتھ زیادتی ہے۔ ہمیں پھر بھی ڈچ حکومت سے انصاف کی توقع ہے اور ہم انصاف کے لئے ہر دروازہ کھٹکھٹایں گے۔ میں ہالینڈ کی پاکستانی مسیحی کمیونٹی کے ان تمام ممبرز کی کاوشوں کو سراہتا ہوں جو مشکل گھڑی میں اپنے مسیحی بہن بھایئوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

Advertisements