لاہور ہائی کورٹ نے کوٹ رادھا کشن میں مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے کے معاملے کی چھان بین کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو حکم دیا ہے کہ وہ ملزموں کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد کو اپنی تفتیش کا حصہ بنائیں۔
ہائی کورٹ نے یہ حکم مقدمے کے سات ملزموں کی درخواست ضمانت پر کارروائی کے دوران دیا۔
Christian-couple-killed-for-desecrating-Holy-Quran-Kot-Radha-Kishan
وقاص بشیر سمیت سات ملزمان نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور استدعا کی کہ ان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ملزموں کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔
گذشتہ سال نومبر میں ضلع قصور کےعلاقہ کوٹ رادھا کشن میں ہجوم نے مبینہ توہینِ قرآن پر مسیحی جوڑے کو زندہ جلا دیا تھا اور ملزموں کے خلاف مقدمہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں زیر سماعت ہے۔
کارروائی کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ ملزمان کا واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور مخالفین کے کہنے پر پولیس نے انھیں میاں بیوی کو جلانے کے مقدمے میں ملوث کر دیا۔
وکیل کے مطابق درخواست گزاروں کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں بلکہ وہ وقوعے پر موجود ہی نہیں تھے۔ وکیل کے بقول پولیس نے اصل ذمہ داروں کی بجائے کارکردگی دکھانے کے لیے بے گناہوں کو اس واقعے میں ملوث کر لیا ہے۔
وکیل نے بتایا کہ پولیس ان کے موکلوں کے بیانات ریکارڈ نہیں کر رہی اور نہ ہی ان ثبوتوں اور شواہد کو تفتیش کا حصہ بنا رہی ہے۔
وکیل نے استدعا کی کہ درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔
لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے کے واقعہ کی تحقیقات کرنے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کو ملزموں کی طرف سے فراہم کردہ ثبوت اور شواہد کو اپنی تفتیش کا حصہ بنانے کا حکم دیا۔
درخواست ضمانت پر مزید کارروائی 19 فروری کو ہوگی

Advertisements