پاکستانی مسیحی پناہ گزین ہالینڈ میں ایک بار پھر زیر عتاب ہیں۔ اور مشکلات کا شکار ہیں واٹسن سلیم گل،
Light
اس حوالے سے ہم نے پھر ہالینڈ میں موجود انسانی حقوق کی تنظیموں اور پارلیمنٹ ممبرز سے رابطہ کیا جس میں ایک یوروپیئن پارلیمنٹ ممبر بھی شامل ہیں۔ ہم نے ڈچ پارلیمنٹ کے ممبر مسٹر جویئل فوردوینڈ کو بھی لکھا۔ یہ وہی پارلیمنٹ ممبر ہیں جن کی وجہ سے ڈچ پارلیمنٹ نے مسیحیوں کو پاکستان میں غیر محفوظ کمیونٹی کے طور پر تسلیم کیا۔ مسٹر جویئل نے ہمیں صاف لکھا ہے کہ جن پاکستانی مسیحیوں کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں وہ اپنے وکیلوں سے کہیں کہ وہ ڈچ پارلیمنٹ میں مسٹر جویئل کے دفتر سے رابطہ کریں۔ میں ایک بات ہالینڈ میں موجود پاکستانی مسیحی پناہ گزینوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ بات سراسر غلط ہے اور جھوٹ ہے کہ اگر کوئ آپ سے یہ کہتا ہے کہ پناہ گزینوں کے ناموں کی لسٹ ہمیں دے دو ہم تمہارا کیس پاس کروا دیںگے اور ہم یہ کر لیں گے اور وہ کر لیں گے۔ ایسی کوئ کہانی نہی ہے۔ صرف وہ بات سچ ہے جو ہمیں جویئل نے بتائ ہے کہ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ مجھے خود ایک گروپ ای میل چیٹینگ پر مسٹر جویئل نے یہ پیغام لکھا ہے۔ جو کہ میرے پاس ثبوت کے طور پر ہے اور اگر کوئ دیکھنا چاہئے تو مجھ سے رابطہ کر کے دیکھ سکتا ہے ۔
اب تمام مسیحی پناہ گزینوں سے درخواست ہے کہ اگر آپ کو درخواست کے حوالے سے کو مسلئہ ہے تو آپ اپنے وکیل سے کہیں کہ وہ مسٹر جویئل سے یا ان کے سیکٹری سے رابطہ کریں۔ اگر آپکا وکیل رابطہ نہی کرتا یا کوئ اور مشکل ہے تو آپ ہماری ٹیم سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں جن میں جناب منگت مسیح ، پاسٹر عمران گل ، جناب عابد شکیل، اعجاز میتھیو زوالفقار، نوید بھٹی اور واٹسن سلیم گل شامل ہیں ۔ یہ ٹیم خود آپکے وکیل اور جناب جویئل کے درمیان رابطہ کار کے طور پر کام کرے گی۔
منگت مسیح۔۔۔ فون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 0641414135
پاسٹر عمران۔۔۔فون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 0686474302
عابد شکیل۔۔ فون۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔0618656542
اعجاز میتھیو زوالفقار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔0685280498
نوید بھٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔0659188888
واٹسن سلیم گل،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔0616494260
جیسے کہ آپ جانتے ہیں کہ بہت تیزی کے ساتھ پاکستانی مسیحیوں کی پناہ کی درخواستوں کو مسترد کر کے انہیں کیمپوں سے باہر نکالا جارہا ہے ۔ گزشتہ روز ایک فیملی کو کیمپ سے باہر نکال دیا گیا۔ یہ اس ہفتے میں پاکستانی مسیحوں کا تیسرا کیس ہے۔ بہت سے مسیحی کئ ماہ سے ہالینڈ کی جیلوں میں قید ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ اور ان سے بھی زیادہ بڑی تعداد میں پاکستانی مسیحی بے یارومددگار ہیں۔ حکومت نے ایک طرف تو قانونی طور پر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ پاکستان میں مسیحی محفوظ نہی ہیں اور دوسری جانب ان کو سخت سردی میں کیمپوں سے باہر نکالنا سراسر ظلم ہے۔ یہ کونسے انسانی حقوق ہیں جن کے یہ چیمپیئن ہیں۔ میرے ایک خط کے جواب میں جو میں نے گزشتہ ماہ وزارت انصاف کو لکھا تھا مجھے جواب دیا گیا کہ وہ پاکستانی مسیحوں کے حوالے سے پارلیمنٹ میں ڈبیٹ کریں گے۔ مگر یہ ڈبیٹ چار ماہ میں ہوتی ہے یا چار سالوں میں اس کا کوئ جواب نہی ہے۔ یہ لمحہ فکریہ ہے ۔ سیاسی پناہ گزینوں کے نمایندے جناب منگت مسیح اور پاسٹر عمران گل نے اس حوالے سے ایک میٹینگ کا اعلان کیا ہے جس کی تفصیل آج یا کل آپ تک پہنچ جائے گی۔ ہمیں مل کر اپنے مسیحی پناہ گزین بہن بھایوں کو مکمل طور پر سپورٹ کرنا ہے اور ہم ان کے ساتھ پوری ایمانداری کے ساتھ کھڑے ہیں۔
خداوند آپکو سب کو برکت دے۔ آمین،

Advertisements