تھائ لینڈ میں ہمارے پاکستانی مسیحی بہن بھائ زیر عتاب ہیں ۔ خدارا سب مل کر متحد ہو کر اس حوالے سے کوئ اقدام کریں واٹسن سلیم گل،
مجھے ایک نہی دو نہی بلکہ تین مختلف پاکستانی مسیحی بھایئوں نے شکایت کی کہ میں تھائ لینڈ کے پاکستانی مسیحی بہن بھایئوں کے حوالے سے کیوں خاموش ہوں۔ اور کیوں ان کی آواز بلند کرنے میں اپنا کردار ادا نہی کر رہا ہوں۔ مجھے سمجھ نہی آرہا تھا کہ کیا جواب دوں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا میرے سوشل میڈیا پر آواز اٹھانے سے ہمارے بھایئوں کو کوئ رلیف مل جائے گا۔ اگر ہاں تو میں روز اپنی آواز اُٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مگر میری کم عقلی یہ کہتی ہے کہ صرف سوشل میڈیا پر چار لائنیں لکھ کر اپنا فرض ادا نہی کیا جاسکتا۔ تھائ لینڈ میں ہمارے مسیحی بہت مشکلات کا شکار ہیں۔ معاشی اور معاشرتی بدحالی نے ان کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ ابھی چند ہفتوں پہلے تھائ لینڈ کے دو پاکستانی مسیحیوں نیعم جان اور راشد کرسٹی نے ایک مظاہرے کا اہتمام کیا۔ مجھ سے رابطے میں دونوں بھایئوں نے بڑے عزم کا اظہار کیا۔مگر بعد میں شاید وہ نتایج نہی نکلے جس کے وہ منتظر تھے، بحرحال پھر بھی میں ان کے حوصلے کی داد دیتا ہوں۔
Dignity-not-Detention
میں اپنے تمام بہن بھایئوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہم نے ایک ٹیم کے طور پر جو یورپ اور برطانیہ کے غیور مسیحیوں پر مشتمل تھی۔ انہوں نے عملی طور پر اس کا مظاہرہ کیا تھا۔ اور تھائ لینڈ، سری لنکا اور ملیشیا کے پاکستانی مسیحی پناہ گزینوں کے لئے اپنی آواز یوروپیئن پارلیمنٹ کے سامنے اٹھائ تھی۔ اور اس سلسلے میں ایک پٹیشن بھی اعلی حُکام کو پیش کی تھی۔ مگر ہماری آواز شاید کمزور تھی۔ کیونکہ یورپ اور برطانیہ میں ہماری مجموعی آبادی 20 سے 25 ہزار ہے مگر برسلز میں صرف 120 کے قریب مسیحیوں نے اپنے پناہ گزین بہن بھائیوں سے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ اس تحریک میں ہالینڈ، بیلجئم، برطانیہ، سپین، فرانس، جرمن، اٹلی، ناروے، ڈنمارک، پاکستان، تھائ لینڈ، ملیشیا، بحرین، امریکا کے مسیحی شامل تھے جن کے نام ہماری پٹیشن پر آج بھی محفوظ ہیں۔
میں آج بھی یورپ میں موجود سیاسی اور سماجی تنظیموں اور لیڈرز سے درخواست کرتا ہوں کہ ہمیں ہمت نہی ہارنی چاہئے۔ خدارا سب مل کر متحد ہو کر اس حوالے سے کوئ اقدام کریں۔۔ میں انٹرنیشل کرسچن کونسل، پی ایم آر او، آل پاکستان کرسچن لیگ، پی ایم اے اور دیگر سیاسی سماجی اور مزہبی تنظیموں سے درخواست کرتا ہوں کہ آپسی اتحاد کے ساتھ کوئ حکمت عملی بنائ جائے۔ یہ کام کوئ ایک تنظیم یا فرد واحد کے بس کا نہی ہے۔ برائے مہربانی اکھٹے ہوں۔

Advertisements