بھارت کے شہر ممبئی میں ایک چرچ پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا، بی بی سی اردو،
141216034801_church_india_624x351__nocredit
یاد رہے کہ گذشتہ پانچ ماہ کے دوران بھارت میں مسیحیوں کی عبادت گاہوں کو آٹھویں بار نشانہ بنایا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ممبئی کے چرچ کی نگرانی کے لیے نصب کلوز سرکٹ کیمروں سے موصول ہونےوالی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ تین نقاب پوش افراد نے سنیچر کی صبح چرچ پر پتھر برسائے۔

واقعے کے بعد ممبئی کی مقامی پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ممبئی پولیس کے ایک سینئیر اہلکار سریاوانشی نے مقامی اخبار ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ ’شرپسندوں نے چرچ کے داخلی راستے پر پتھر برسائے اور فرار ہوگئے۔ مزید تحقیقات کے لیے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے‘
انھوں نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی۔

یاد رہے کہ حالیہ حملے سے ٹھیک ایک ہفتے قبل بھارت کی مغربی ریاست بنگال میں راہبوں کے زیرِ انتظام سکول کی عمارت میں چند افراد نےداخل ہوکر 74 سالہ راہبہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔
گذشتہ چند ماہ میں نئی دہلی سمیت بھارت کی میں عیسائیوں کی عبادت گاہوں اور سکولوں پر اس نوعیت کا یہ آٹھواں حملہ ہے۔ بھارت کی مذہبی اقلیتوں کو شک ہے کہ یہ حملے سخت گیر ہندو تنظیموں کی ایما پر کیے جا رہے ہیں۔
ایک ارب 20 کروڑ آبادی پر مشتمل ملک بھارت کی 80 فیصد آبادی ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہے تاہم وہاں بڑی تعداد میں مسلمان، عیسائی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی بستے ہیں۔
اگرچہ گذشتہ ماہ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے بیان میں اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ ملک میں ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہوگی اور مذہبی بنیادوں پر تشدد کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا تاہم ملک میں گرجا گھروں پر ہونے والے مسلسل حملوں کے بعد انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ انھوں نے پہلے اس معاملے پر چپ کیوں سادھ رکھی تھی۔

Advertisements