یوحنا آباد کے دلخراش سانحے پر دُنیا بھر میں پاکستانی مسیحی اضطراب اور بےچینی کا شکار تھے۔ پاکستانی حکومت بلخصوس پنجاب حکومت کے تعصب اور بے حسی پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ اتنے بڑے واقعہ پر جو کہ ابھی ختم نہی ہوا ہماری مسیحی کمیونٹی کی جانب سے وہ جوش اور جزبہ نظر نہی آیا جس کے مظاہرے کی قوم اس وقت منتظر تھی۔ وہی سوشل میڈیا پر اپنا فرض پورا کیا اور بات آئ گئ ہو گئ۔ مگر پھر بھی میں تمام دنیا میں ان مسیحی لیڈرز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے مظاہروں کا انعقاد کر کہ اس ظلم کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔ جس دن یہ واقعہ ہوا اسی دن ہالینڈ اور بیلجیئم کے غیور مسیحی سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے سیاسی، سماجی اور مزہبی راہنماؤں نے ہماری بھرپور حوصلہ افزائ کی۔ اسی روز سکایئپ میٹینگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ یوحنا آباد کے سانحے اور اس کے بعد کے حالات پر ہمیں اپنی آواز بلند کرنی ہو گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری سب سے بڑی طاقت ہمارے مزہبی لیڈرز تھے۔ جنہوں نے بہت شاندار کردار ادا کیا۔ ہالینڈ سے پاسٹر ندیم دین گو کہ پاکستان میں تھے اس کے باوجود ہمارے ساتھ رابطے میں تھے اور فون پر ہمیں ان کے مفید مشورے مل رہے تھے۔ اس کے علاوہ پاسٹر ویلئم پیغانی اور پاسٹر عمران گل نے بھی ہمیں بھرپور طور پر سپورٹ کیا۔ بشپ آفتاب عمنویئل کھوکھر صاحب بھی ہالینڈ سے باہر تھے مگر ان کی بھی بھرپور حمایت ہمارے ساتھ تھی۔
1941408_970992012951734_4177512864822644964_o (1)۔۔11012755_1607090666244088_6877917901665261825_n
بیلجئم سے پاسٹر کیمرون تھامس کے مثبت مشوروں نے ہمارے بہت سے مسایئل حل کئے وہ بھی کبھی سکایئپ اور کبھی فون پر ہماری ہمت بندھاتے رہے۔ اس کے ساتھ ہی میں بشپ ارشد کھوکھر صاحب کا بھی شکریہ ادا کرونگا کہ اس موقع پر اپنے تمام اختلافات بھلا کر وہ خود اور برسلز کے بھائیوں سمیت اس جدوجہد کا حصہ بن گئے۔ اس کے لئے جناب لطیف بھٹی، پاسٹر کیمرون اور بشپ ارشد کھوکھر خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ پاسٹر جان اشرف، پاسٹر نجم سلیم بھی شانہ بہ شانہ ہمارے ساتھ کھڑے رہے۔
11014870_970990602951875_756707821671614630_o۔۔11018617_970991209618481_7914000368002000847_o
معروف سیاسی اور سماجی شخصیت جناب لطیف بھٹی صاحب جن کا تعلق بیلجیئم سے ہے مگر وہ ہالینڈ میں بھی مقبول ہیں۔ ان کی راہنمائ ہمارے لئے بہت اہم ہے وہ ہر قدم پر ہمارے ساتھ رہے اور اس جدوجہد میں کلیدی کردار ادا کیا۔ میں زاتی طور پر یعقوب مسیح اور شاہد پرویز کی کمیونٹی کے لئے خدمات کا قائل ہوں ۔اس جدوجہد میں ایسا بھی وقت آیا کہ اگر ان دونوں کے کاندھے نہ ہوتے تو شائد ہم اس بوجھ کو نہ اٹھا سکتے۔ اسکے علاوہ بیلجئم سے خالد صاحب، اسلم غوری، سرور غوری، اشرف بھٹی، جوزف انور، شاہد حمید، جارج بھٹی، اونیل میتھیو اور بہت سے جن کے نام جھے معلوم نہی ہیں انہوں نے اس مظاہرے کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلم غوری باقائدہ ہماری میٹینگز میں شریک رہے اور مفید مشورے دیتے رہے۔
10631117_970991712951764_8685446001801455670_o۔۔11074310_970990596285209_127036619004749614_o
ہالیننڈ سے بھی ہماری کمیوںٹی کے نہایت اہم سیاسی اور سماجی راہنما اس تحریک میں شامل تھے۔ اعجاز میتھیو زوالفقار جو کہ شہباز بھٹی جیسے لیڈر کی سرپرستی میں رہے اور نہایت مثبت سوچ کے حامل ہیں، گیسپر ڈانیئل جو ادارہ امن و انصاف کا حصہ رہے ہیں جن کے 7 مسیحی لیڈرز کو دہشت گردوں نے کراچی میں شہید کر دیا تھا۔ یہ دونوں ہی ہماری کمیونٹی کے لئے کسی تحفہ سے کم نہی ہیں۔ گیسپر بھائ کسی وجہ سے مظاہرے میں شریک نہی ہو سکے مگر بینرز اور پوسٹرز کی زمہ داری نہایت احسن طریقے سے انجام دی۔ ، منگت مسیح فراخ دل، سادہ طبعیت اور مثبت سوچ رکھنے والے ہمارے بھائ، اعجاز میتھیو زوالفقار، منگت مسیح اور گیسپر ڈانیئل اس تحریک میں نہایت اہم حصہ ہیں۔ جمشید ملک، یونس ولئیم ، کلیم سلیم،عابد شکیل، بوبی بوب، فراز اعجاز، پرویز ویلئم، نوید گل، طارق مسیح ،رضوان ، سجاد مسیح ،ویرن گِھردھاری اور راقم یعنی واٹسن سلیم گلِ بھی اس تحریک میں مومنین کے ساتھ شانہ بہ شانہ موجود تھے۔ بھائ اسٹیفن ولیئم ، گیسپر ڈانئیل ،جمشید ملک، کلیم سلیم اور بہت سے مسیحی بھائی ٹرینوں کی بندش اور نجی مسائیل کی وجہ سے شامل نہ ہو سکے مگر ان کی دُعاہیں ہمارے ساتھ تھیں۔
11102975_970975316286737_4503124520355180900_o (1)۔۔11088356_970991466285122_1391865361566102339_o
کمیونٹی کے ایک وفد نے یوروپیئن پارلیمنٹ کے دفتر خارجہ کی وزارت میں ایک یاداشت پیش کی ۔اس وفد میں جناب لطیف بھٹی، جناب اعجاز میتھیو زوالفقار، جناب یعقوب مسیح، جناب سرور غوری اور میں واٹسن گل شامل تھے۔ (میں کمیونٹی لیڈرز کا شکرگزار ہوں جنہوں نے مجھے یہ عزت بخشی) ۔
11061727_970991812951754_8960643883701235311_o
برطانیہ سے ہم ولسن چوہدری کی سپورٹ اور کمیونٹی سے محبت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ، جنہوں نے اس مظاہرے میں شرکت کر کے برطانیہ کی نماینگی کی۔

یکجہتی کی خوبصورت مثال یہ ہے کہ اس تحریک میں بہت سے چرچز، تنظیموں نے حصہ لیا اور سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صرف خدا کا نام سب سے بڑا ہے اس کے علاوہ کچھ نہی ہے۔ اور سب نے اپنے چرچز، سیاسی اور سماجی تنظیموں کے نام پیچھے رکھ کر خدا کے نام کو آگے رکھا۔ اور آپسی محبت اور بھائ چارے کا عملی ثبوت دیا۔ اور یہ ہی حقیقی مسیحی تعلیم ہے کہ آپ اپنے گھر والوں سے چرچ والوں سے تنظیم والوں سے تو سب ہی پیار کرتے ہیں۔ آپ دوسرے چرچز اور تنظیموں سے بھی بلکہ دوسرے مزاہب کے لوگوں سے بھی پیار کریں۔ خداوند ہمیں اپنی کمیونٹی میں اتحاد کے لئے اسی طرح استمال کرے۔ آمین۔

Advertisements