لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس انوارالحق نے یوحنا آباد کے زیر حراست مسیحیوں کی رہائ کی درخواستوں کی سماعت سے معزرت کر لی۔

پاکستان کے صوبے پنجاب کی لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس انوارالحق نے یوحنا آباد چرچ پر خودکش حملوں کے بعد توڑ پھوڑ اور دو افراد کو زندہ جلانے کے شبے میں زیر حراست مسیحی شہریوں کی رہائی کی درخواست پر سماعت سے معذرت کر لی ہے۔
جسٹس انوارالحق نے رہائی کے لیے دائر کی گئی درخواست چیف جسٹس ہائی کورٹ کو بھجوادی اور سفارش کی ہے کہ اس درخواست کو سماعت کے لیے کسی دوسرے جج کے روبرو پیش کیا جائے۔
انسانی حقوق کے حوالے سے جانی پہچانی شخصیت جناب جوزف فرانسس نے پولیس کی جانب سے مسیحی شہریوں کی گرفتاری اور غیر قانونی حراست کو چیلینج کیا تھا اور اس سلسلے میں ایک درخواست دائر تھی ہے۔
لاہور کے مسیحی آبادی کے علاقے یوحنا آباد کے دو گرجا گھروں میں ہونے والے خودکش بم دھماکوں میں کم سے کم 19 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس انوار الحق نے یہ کہہ کر اپنی جان اس مقدمے سے چھڑا لی کہ وہ جوزف فرانسس کے وکیل رہ چکے ہیں۔ جسٹس انوار الحق سے پہلے لاہور ہائ کورٹ کے جسٹس محمود مقبول باجوہ صاحب کے پاس یہ درخواست آئ مگر وہ بھی غائب ہو گئے۔
یہ حالات بتا رہے ہیں کہ پنجاب پولیس مسیحیوں کے خلاف کوئ خطرناک کھیل کھیل رہی ہے۔ اس کے علاوہ زرایع سے معلوم ہوا کہ دو مسیحی نوجوان جو تھائ لینڈ میں سیاسی پناہ لینے پہنچے ہیں۔ ان کی گرفتاری کے لئے ایک پولس ٹیم تشکیل دی جا چکی ہے جو انٹرپول سے رابطہ کر کے ان کو گرفتار کر کے پاکستان واپس لائے گی۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ان نوجوانوں کی گرفتاری کے لئے پنجاب حکومت کہ ایک مسیحی لیڈر نہ صرف خصوصی دلچسپی لے رہئے ہیں بلکہ اہم کردار ادا کر رہئے ہیں۔

Advertisements