ہالینڈ کے پاکستانی مسیحی 28 اپریل کو ڈچ پارلیمنٹ کے سامنے اپنے مسیحی پناہ گزین بہن بھائیوں کے لئے حق کے لئے آواز بلند کریں گے۔

ہالینڈ میں پاکستانی مسیحی پناہ گزینوں کی پناہ کی درخواستیں نا منظور کی جا رہی ہیں۔ کچھ کو ڈی پورٹ کرنے کیا تیاریاں مکمل ہو چکی ہیں اور ان کے ٹکٹ تک کنفرم کر دئے گئے یہ جانے بغیر کہ پاکستان میں ان کی جان کو خطرہ ہے۔ بہت سے مسیحی پناہ گزین کیمپوں سے باہر نکالے جا رہئے ہیں۔ جن کے سر پر نہ چھت ہے نہ ہی بیماری میں دوائ میسر ہے۔ کچھ بہن بھائ ڈیٹینشن سینٹر (جیل) میں رکھے جا رہے ہیں۔ ایک طرف تو ہالینڈ کے حکومت یہ تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان میں مسیحی محفوظ نہی ہیں اور دوسری جانب ان کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انتظامی امور کی کمیٹی جس میں منگت مسیح، پاسٹر عمران گل، پاسٹر ویلئم پیغانی، اعجاز میتھیو زوالفقار، گیسپر ڈینئل، کلیم سلیم، بوبی بوب، جمشید ملک، یونس ویلئم اور واٹسن گل شامل ہیں ۔ اور اس کے علاوہ پاسٹر ندیم دین، سیلویسٹر تائر بلیجئم سے جناب لطیف بھٹی، بشپ ارشد کھوکھر، جناب اشرف بھٹی، شاہد پرویز، یعقوب مسیح، خالد بھائ نے اس مظاہرے کو کامیاب بنانے کے لئے کمیونٹی سے درخواست کی ہے کہ سب مل کر یکجا ہو کر اپنے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کے لئے آواز بلند کریں۔
میں جس وقت یہ سطور لکھ رہا تھا۔ مجھے ایک مسیحی پناہ گزین بھائ کا فون آیا کہ اسے کیمپ سے باہر نکال دیا گیا ہے۔

Advertisements