میرا احمدی فرقہ کےمعروف عالم دین جناب انصر رضا سے مناظرہ ملتوی نہی ہوا، فیس بُک سے میرا اپنی پوسٹ کو ہٹانے کا فیصلہ مشروط تھا، واٹسن سلیم گل۔
jesus-is-alive-400x400-400x400
بہت سے دوست مجھ سے میری پوسٹ کو فیس بُک سے ہٹانے پر ناراض بھی تھے اور مجھ سے اس پوسٹ کو فیس بُک سے ہٹانے کی وجہ پوچھ رہے تھے، کچھ نے تو یہ بھی سمجھا ہے کہ ہمارا مناظرہ “مسیح ہندوستان میں” محترم مرزا غلام احمد کی کتاب کے حوالے سے منسوخ ہو گیا ہے۔ بات یہ ہے کہ جناب انصر رضا صاحب جو کہ احمدی فرقے کے نہایت معروف عالم ہیں۔ جماعت کے ایک زمہ دار ریڈیو پروگرام کو لیڈ کرتے ہیں اور غیر احمدیوں سے مناظرے کے حوالے سے بھی شہرت رکھتے ہیں۔ میں نے ان کو چیلنج کیا تھا جسے انہوں نے قبول کیا ہے۔ مگر میری گزشتہ پوسٹ جو کہ ہمارے مناظرے کے حوالے سے تھی اس پر ماحول کچھ تلخ ہو گیا تھا جس پر جناب انصر رضا صاحب نے مناظرے کو مشروط کر دیا تھا کہ اگر میں فیس بُک سے اپنی پوسٹ نہی ہٹاؤں گا تو وہ مجھ سے مناظرہ نہی کریں گے۔ میں نے ان کی یہ شرط مانتے ہوئے مزکورہ پوسٹ ہٹا دی ہے اور اب میں تاریخ اور وقت کا انتظار کر رہا ہوں جس کا وعدہ جناب انصر رضا صاحب نے کیا ہے۔
کچھ غیر مسیحی دوستوں نے میری غیر متعلقہ پوسٹ پر بھی مناظرے کے حوالے سے استفسار کیا۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں اس مناظرے کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہوں۔ شرائط و ضوابط، وقت اور تاریخ سب میں نے جناب انصر رضا صاحب پر چھوڑ دیا ہے۔
میں اپنے مناظرے میں انصر رضا صاحب کو چیلنج کر رہا ہوں کہ مسیح ابن مریم کے ہندوستان ہجرت کرنے اور کشمیر میں ان کی قبر کے حوالے سے مرزا صاحب کی کتاب ‘ مسیح ہندوستان میں ‘ کی کوئ سچائ نہی ہے۔ جیسے مرزا صاحب نے اپنے دعوے کو اپنی کتاب میں چار ابواب پر تقسیم کیا ہے میں انہی چار ابواب سے اس دعوے کو اپنے خداوند یسوع مسیح کی مہربانی سے غلط ثابت کرونگا۔
میں مسیح ابن مریم کے زندہ ہونے کو بائبل سے ثابت کرونگا۔ 2 قرآن سے ثابت کرونگا۔ 3 قرائن متفرقہ ، تاریخی اور طبئ کتب سے ثابت کرونگا۔ 4 منطقی دلایل اور شواہد سے ثابت کرونگا۔

Advertisements