پاکستان کے ایک معروف پاسٹر جو کہ اپنی ایک معروف ٹی وی منسٹری بھی رکھتے ہیں کہتے ہیں کہ پاکستان میں مسیحیوں کے ساتھ کوئ امتیازی سلوک نہی ہے، رپورٹ۔

پاکستان سے یورپ کے دورے پر آئے ہوئے مزکورہ پاسٹر صاحب جو کہ اس وقت پاکستان میں نہایت معروف ہیں، بڑی بڑی مسیحی کنونشن  اور تاریخی اجتماعات ان کے مسیحی ٹی وی چینل پر ہم دیکھتے ہیں اور میرے دل مین ان کے لئے نہایت احترام ہے اس لئے میں ان کا نام نہی لکھ رہا ہوں۔ مصوف یورپ کے دورے پر ہیں اور ان کی مٹینگز میں پاکستانی مسلم کمیونٹیز، سفارتی عملے اور یورپ کی انسانی اور سماجی تنظیموں کے لوگ شریک ہوئے۔ جہاں پاسٹر صاحب نے اپنی تقاریر میں فرمایا کہ وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ مزہبی ہم آہنگی پر یقین رکھتے ہیں، پاکستان میں ناخوادنگی کے خلاف تحریک چلانے پر یقین رکھتے ہیں۔ مگر ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ پاکستان میں کسی بھی مسیحی کے ساتھ کوئ امتیاز سلوک نہی کیا جاتا۔ ہم سب برابر ہیں۔

مجھے گزشتہ رات یورپ کی ایک انتہائ معروف سماجی اور متحرک شخصیت نے فون کیا (یاد رہے کہ ان کا تعلق ہالینڈ سے نہی ہے)۔ اور تمام حالات سے آگاہ کیا۔ اور پاسٹر صاحب کی تقریر بھی سنوائ ۔ اس تقریر کے ایک بڑے حصے پر ہم دونوں کو کوئ اعتراض نہی تھا۔ ہم بھی پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ ہم بھی مزہبی ہم آہنگی پر یقین رکھتے ہیں۔ اور ہم بھی پاکستان میں تعلیم اور ترقی کے لئے دُعا گو ہیں۔ مگر پاسٹر صاحب کا یہ کہنا کہ پاکستان میں مسیحیوں کے ساتھ کوئ امتیازی سلوک نہی ہے۔ اس پر ہمارے شدید تحفظات ہیں۔ اور ہم پاسٹر صاحب کے اس جملے پر احتجاج کرتے ہیں۔
ہمارے مزہبی اور سیاسی لیڈرز کے یہ ہی جملے ہمارے مسیحی پناہ گزینوں کو یورپ اور برطانیہ میں زلیل و خوار کر رہے ہیں۔ ہمارے زرایع نے بتایا کہ کہ مزکورہ پاسٹر صاحب کا نواز حکومت کے ایک اہم مسیحی لیڈر سے بہت پیار محبت کا رشتہ ہے۔ اور یہ پاسٹر صاحب مسلم لیگ نواز کے طرز سیاست کے قائل ہیں۔ اور نواز شریف کے جولائ میں یورپ میں میٹینگز کے لئے راہ ہموار کر رہے ہیں۔ ہماری ایسے لیڈرز سے درخواست ہے کہ برائے کرم آپ مسیحی کمیونٹی کے حقوق کے لئے آواز اٹھاہیں مگر ان کے حقوق کا سودا کر کہ اپنی دکان نا چمکاہیں۔

Advertisements