واٹسن سلیم گَل
ایمسٹرڈیم،

شیخوپورہ میں ایک مسیحی جوڑے پر تشدد ،

شیخوپورہ کے علاقے فاروق آباد میں واقع چک 460 میں ظلم کی ایک اور تاریخ رقم کی گئ جب ایک مسیحی جوڑے کو ناکردہ گناہ کی سزا دی گئ۔ اویس قمر اور اسکی پیوی دونوں ناخواندہ ہیں۔ اور محنت مزدوری کر کے اپنےگھر کو چلا رہے تھے۔ کہ ایک دن ان پر ناگہانی آفت ٹوٹ پڑی۔ کہ دوپہر کے وقت سیکنڑوں لوگوں نے اویس قمر کے گھر پر حملہ کر دیا۔ اویس گھر پر موجود نہی تھا مگر اسکی بیوی رخسانہ اور بہن ریحانہ گھر پر موجود تھیں۔ جن کو پکڑ کر اس ہجوم نے مارنا شروع کر دیا۔ اتنے میں اویس کو جب خبر ملی تو وہ گھر کی طرف بھاگا ۔ مشتعل ہجوم نے اسے بھی پکڑ لیا اور رخسانہ، ریحانہ اور اویس کا منہہ کالا کر کے انہیں جوتوں کا ہار پہنا کر بے عزت کرتے رہے اور مارتے رہے۔ ان کا گناہ یہ تھا کہ اویس قمر جو کہ ایک اسکول میں صفائ کا کام کرتا تھا۔ اسے اسکول کے قریب سے ایک بڑا سا بیٹا فلیکس (اشتہار) ملا جسے وہ اپنے گھر لے آیا اور اسے دسترخوان کے طور پر استمال کیا جانے لگا۔ پڑوس میں ہی ایک مسلم دودھ فروش کی بیوی جو کہ کبھی کبھی ان کے گھر آتی تھی ایک دن آئ اور اس نے کہ اویس قمر اور اس کی فیملی اس اشتہار کو نیچے بچھا کر کھانا کھا رہے ہیں۔ پہلے تو اس خاتون نے ان سے اس اشتہار کو خریدنے کی ضد کی اور جب بات نہی بنی تو باہر جا کر شور مچا دیا کی یہ مسیحی خاندان قرآنی آیات کی توہین کر رہا ہے۔ بس لوگ جمح ہوئے اور انہوں نے اس اشتہار کو قبضے میں کیا اور اس خاندان کو مارنا شروع کر دیا اور ان کے گھر کی ضروریات کی تمام چیزوں کو تباہ کر دیا۔ انہوں نے عورتوں کو بھی لحاز نہ کیا اور اس بے گناہ خاندان کو بے عزت کر کے رکھ دیا۔ بعد مین جب کچھ لوگ ان پر توہین رسالت کے مقدمے کا مطالبہ کرنے لگے تو ایک شخص نے اس اشتہار کو علاقے کے ایک معروف مزہبی راہنما کو دکھایا ، جس کی تصدیق پر کہ یہ توہین قرآن نہی ہے اس بدقسمت خاندان کی جان چھوٹی۔ سچائ جو کہ بعد مین سامنے آئ جبکہ چہرے پر کالک موجود تھی اور گلے میں جوتوں کے ہار بھی تھے۔ پتا چلا کہ مزکورہ اشتہار ایک اسکول کا ہے ۔ جو کہ اسکول میں نئے بچوں کے داخلے سے معتلق تھا۔ جس پر ایک جملہ” رب زدنی علما ” لکھا تھا۔ جس کا مطلب ہے کہ یا رب میرے علم میں اضافہ کر۔ پولیس کو واقعہ کی خبر ملی تو اس نے جائے وقوع پر پہنچ کر اس بدقسمت خاندان کی جان چُھڑائ ۔ اور چند لوگوں کے خلاف علاقے میں شور شرابہ کرنے کی ایف آئ آر کاٹ دی ۔ بات یہاں ختم نہی ہوتی۔ بلکہ اس کے پیچھے بھی اور اور سازش سامنے آئ ہے وہ یہ کہ اسی علاقے ایک حجام اس خاندان کا گھر خریدنے کا ارادہ رکھتا تھا اور کئ بار وہ ان سے گھر اسے بیچنے کا تقاضہ بھی کر چکا تھا۔ مگر اویس نے انکار کر دیا تھا۔ جس پر اس حجام نے دھمکی بھی دی تھی۔ پولیس نے اس جوڑے کے خلاف کسی قسم کا مقدمہ درج نہی کیا اور انہیں چھوڑ دیا ۔مگر کیا یہ انصاف ہے۔ کیا کسی بھی مسیحی کو آپ شک کے دائرے مین لیکر اس کے بے عزت کریں۔ اس کے سامنے اس کی بیوی، بیٹی کا منہہ کالا کریں ، ان کو جوتوں کا ہار پہناہیں۔ اور بعد میں بات ختم پیسہ ہضم۔ پولیس نے جن لوگوں کے خلاف مقدمہ قائم کیا ہے وہ بھی اب اس خاندان پر دباؤ بڑھا رہئے ہیں کہ صلح کی جائے اور بات کو آگے نہ بڑھایا جائے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ مسیحی خاندان واقئ مقدمہ واپس لے لے اور صلح کر لیں۔ مگر کیا یہ آخری واقعہ ہے۔ کیا یہ بات یہی ختم ہو جائے گی۔ جبکہ ان پر تشدد کرنے والے کوئ غیر نہی ہیں بلکہ اس مسیحی خاندان کے پڑوسی ہیں۔ کیا یہ واقعہ اپنے کوئ نفسیاتی اثرات نہی چھوڑے گا۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات کی تلاش بہت ضروری ہے۔

Advertisements