مسلمان لڑکی سے شادی کے جرم میں مسیحی نوجوان علیم مسیح کو موت کے کھاٹ اتار دیا گیا ، جبکہ لڑکی کی حالت تشویشناک ہے، ( رپورٹینگ ماریہ عنیقہ)
WP_20150731_010۔۔WP_20150731_008 (2)
علیم مسیح، ولد نسیم مسیح 28 سالہ نوجوان نے 23 سالہ مسلم لڑکی نادیہ سے شادی کی تھی۔ اس شادی کے جرم میں لڑکی کا باپ محمد دین میو، بھائ اظہر اور خاندان کے دوسرے لوگ کافی عرصے سے علیم مسیح کے خاندان کو دھمکیاں دے رہے تھے جب کی علیم مسیح اپنی بیوی کے ساتھ نارنگ منڈی میں روپوش تھا۔ انہوں نے مقامی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن بھی کروائ ہوئ تھی کہ ان کو تحفظ فراہم کیا جائے مگر۔ بلآخر یہ بدقسمت میاں بیوی ان ظالموں کے ہاتھ چڑھ گئے۔ تفصیلات کہ مطابق یہ دونوں رکشے میں حکیم کے پاس جارہے تھے۔ کہ ان کو کسی نے دیکھ کر محمد دین کو شکایت کر دی۔ لڑکی کے بھائوں اور باپ نے ان کو اغوا کیا اور اپنے ڈیرے پر لا کر پہلے اظہر نے علیم مسیح کی ٹانگوں پر گولیاں ماری تاکہ وہ فرار نہ ہو سکے پھر اس کی پسلی میں اور اسکے منہہ میں گولیاں مار کر اسے قتل کر دیا، بعد میں اپنی بہن نادیہ کی پسلی اور کولہوں پر گولیاں مار کر اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا اور کہا کہ میں نے ایک کُتے کو مار دیا۔ (اس خبر کی تفصیل آپ گلوبل کرسچن وائس پر پڑھ چکے ہیں۔
WP_20150731_016
( ہم اس خبر کی رپورٹینگ کے لئے معروف وکیل اور انسانی حقوق کے حوالے سے جانا پہچانا نام سسٹر ماریہ عنیقہ اور وائس سوسائٹی کے شکرگزار ہیں۔)

Advertisements