کیا تھائ لینڈ کے مسیحی پناہ گزین فراموش کئے جا رہے ہیں، کیا ان کا کوئ پرسان حال ہے؟ واٹسن سلیم گل،

گزشتہ کچھ ہفتوں سے تھائ لینڈ کے پاکستانی مسیحی جن مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ وہ ہم سے ڈھکی چھپی نہی ہے۔ مجموعی طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے مسیحی اپنے طور پر مشکلات میں گھِرے ان بہن بھائیوں کی مدد کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر میری زاتی تحقیق اور معلومات مجھے بتاتی ہے کہ فرخ سیف فاونڈیشن کے روح رواں جناب فرخ سیف صاحب کی کاویشیں اور جدوجہد کا کوئ ثانی نہی ہے۔ مگر حال ہی میں تھائ لینڈ میں کچھ اختلافات سامنے آئے ہیں۔ جن کی بنا پر جناب فرخ سیف صاحب نے دل برداشتہ ہو کر اپنے تمام پروجیکٹس کو لپیٹ دیا ہے۔ میں نے اسی وقت ان سے اپیل کی تھی کہ بڑی بڑی اجہاد میں یہ چھوٹی چھوٹی باتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ تھائ لینڈ کے مسیحی اسائلم سیکرز کو آپ کی توجہ اور مدد کی ضرورت ہے۔ صرف گزشتہ ہفتے میں مجھے پانچ خاندانوں نے درخواست دی ہے کہ ان کے لئے کچھ کیا جائے۔ جن میں ایک درخواست تو میں نے جناب فرخ سیف تک پہنچا دی ہے۔ تھائ لینڈ کے مسیحیوں کو اس وقت ہماری اجتماہی کوششوں کی ضرورت ہے۔ ایک مسیحی خاندان جس نے مجھ سے رابطہ کیا ہے ، اس مسیحی بھائ کی بیوی کی ریڑھ کی ہڈی میں پرابلم ہے۔ اور ان کا بزرگ باپ بھی شدید بیمار ہے۔ اور اس خاندان کے تمام مرد تقریبا 8 مہینے جیل میں رہے ہیں۔ اس بھائ کی روزانہ کی اپیل سے میں شرمندہ ہوتا ہو اور سوچتا ہوں کہ کچھ نہی کرسکتا۔ اس طرح کے بہت سے کیسس ہیں۔ ہر گھر کی کہانی سن کر روح کانپ جاتی ہے۔ میں کہتا رہا ہوں اور آج بھی کہتا ہوں کہ یہ مسائل صرف یکجہتی اور اتحاد سے ہی ممکن ہیں۔ میری اپنے کمیونٹی کے راہنماؤں سے اپیل ہے کہ خدارا سر جوڑ کر بیٹھں۔ اور متحد ہو کر کوئ لاحہ عمل تیار کریں۔ اور کوئ لیڈر یا تنظیم اس حوالے سے کام کر رہی ہے تو ہم سے رابطہ کر کے مشکلات مین گھرے اس خاندان کی مدد کریں۔

Advertisements